محکمہ تعلیم سندھ نے صوبے بھر کے تمام تعلیمی اداروں میں ہفتے کے روز ہفتہ وار تعطیل بحال کرتے ہوئے چھ روزہ اسکول ہفتے کا متنازع فیصلہ واپس لے لیا ہے۔ والدین، اساتذہ اور طلبہ تنظیموں کی جانب سے اس طویل شیڈول کے خلاف شدید ردعمل سامنے آیا تھا، جس میں مؤقف اختیار کیا گیا تھا کہ بچوں اور تدریسی عملے کو آرام کے لیے مناسب وقت کی ضرورت ہے۔ کراچی میں حکام نے تصدیق کی ہے کہ اب صوبے بھر میں پانچ روزہ تعلیمی شیڈول فوری طور پر نافذ کر دیا گیا ہے۔
چھ روزہ اسکول ہفتے کا فیصلہ کیوں واپس لیا گیا
جب صوبائی تعلیمی حکام نے ابتدائی طور پر کلاسوں کا دورانیہ ہفتے میں چھ دن تک بڑھایا تھا تو اس اقدام کا دفاع نصاب کی تکمیل اور پڑھائی کے ضائع ہونے والے اوقات کو پورا کرنے کے لیے کیا گیا تھا۔ تاہم کراچی، حیدرآباد، سکھر اور اندرون سندھ کے اسکولوں میں بنیادی سہولیات کا شدید فقدان تھا جہاں طلبا اور عملے کے لیے اضافی دن اسکول چلانا مشکل ہو رہا تھا۔
- متاثرہ علاقے: سندھ بھر کے تمام سرکاری اور نجی تعلیمی ادارے
- سابقہ شیڈول: ہفتے میں چھ ورکنگ دن
- بحال شدہ شیڈول: ہفتے میں پانچ ورکنگ دن، ہفتہ اور اتوار کی چھٹی
- عملدرآمد: صوبے بھر کے تمام اضلاع میں فوری نافذ العمل
اب والدین اور اساتذہ کو کیا کرنا چاہیے
اگر آپ کے بچے سندھ کے کسی بھی سرکاری یا نجی اسکول میں زیر تعلیم ہیں تو آپ کو اپنے متعلقہ اسکول کی انتظامیہ سے ان کے نئے ٹائم ٹیبل کی تصدیق کر لینی چاہیے۔ اگرچہ صوبائی نوٹیفکیشن تمام اداروں پر لاگو ہوتا ہے، لیکن کچھ نجی اسکولوں کے نیٹ ورکس کو اپنے ہفتہ وار درس و تدریس کے منصوبوں کو ایڈجسٹ کرنے میں ایک دو دن لگ سکتے ہیں۔ اس بات کو یقینی بنائیں کہ آپ کے بچے ہفتے کے روز اسکول نہ جائیں جب تک کہ آپ کے ادارے کے پاس بورڈ کی جانب سے کوئی خاص منظوری موجود نہ ہو۔
سندھ کے تعلیمی نظام میں اگلا مرحلہ کیا ہوگا
اب یہ دیکھنا ہوگا کہ محکمہ تعلیم طلبا پر اضافی دباؤ ڈالے بغیر نصاب کو کیسے پورا کرتا ہے۔ ماہرین تعلیم کا کہنا ہے کہ روایتی طریقوں کے بجائے تعلیمی نظام میں بہتری لانے کی ضرورت ہے تاکہ بچوں کی ذہنی صحت اور پڑھائی کا توازن برقرار رہے۔ صوبائی محکمہ تعلیم اور پرائیویٹ انسٹی ٹیوشنز رجسٹریشن کی جانب سے امتحانات کے شیڈول سے متعلق آئندہ ہدایات پر نظر رکھیں۔
