سندھ حکومت نے تعلیمی اداروں میں حاضری اور نگرانی کو بہتر بنانے کے لیے ایک نیا ڈیجیٹل نظام متعارف کرا دیا ہے۔ سندھ فیشل ریکگنیشن سسٹم (FRAMES) کا مقصد اساتذہ اور عملے کی موجودگی کو یقینی بنانا اور مبینہ گھوسٹ ملازمین کی چھٹی کرنا ہے۔ وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ کی منظوری کے بعد شروع ہونے والا یہ اقدام صوبے کے سرکاری اسکولوں میں شفافیت لانے کا دعویٰ کرتا ہے۔ لیکن کیا یہ ٹیکنالوجی واقعی زمینی حقائق بدل پائے گی یا یہ محض فائلوں تک محدود رہے گی؟ آئیے اس کی تفصیلات کا جائزہ لیتے ہیں۔

اس سسٹم کے بنیادی فیچرز اور تکنیکی تفصیلات

اس نئے فیشل ریکگنیشن سسٹم میں بنیادی طور پر اسمارٹ کیمرے اور حاضری کے لیے سافٹ ویئر شامل ہیں جو براہ راست صوبائی ڈ্যাশবোর্ড سے منسلک ہوتے ہیں۔ یہ نظام عملے کے چہروں کو اسکین کرکے حاضری کا ڈیٹا خودکار طریقے سے ریکارڈ کرتا ہے۔

  • ریئل ٹائم حاضری کی رپورٹنگ
  • جغرافیائی محل وقوع (جی پی ایس) کی لازمی توثیق
  • سینٹرلائزڈ مانیٹرنگ ڈ্যাশবোর্ড

اس کے ذریعے کراچی سے لے کر اندرون سندھ کے اضلاع تک تمام تعلیمی دفاتر اور اسکولوں کی مانیٹرنگ ایک ہی اسکرین پر کی جائے گی۔

کیا یہ سسٹم واقعی کارآمد ہے؟

اس منصوبے کا سب سے بڑا مثبت پہلو یہ ہے کہ اس سے جعلی حاضری اور فرضی اساتذہ کے مسئلے پر قابو پایا جا سکتا ہے۔ پاکستان کے سرکاری اسکولوں میں یہ ایک پرانا مسئلہ ہے جہاں عملہ اسکول آئے بغیر تنخواہیں وصول کرتا ہے۔ دوسری طرف، اس کی کامیابی کا دارالحکومت کی فراہمی اور انٹرنیٹ کنیکٹیویٹی پر ہے۔ دیہی سندھ کے بہت سے علاقوں میں بجلی اور انٹرنیٹ کا فقدان ہے، جس کی وجہ سے ایسے ہائی ٹیک سسٹمز کو چلانا ایک بڑا چیلنج بن جاتا ہے۔

اب آپ کو کیا کرنا چاہیے؟

اگر آپ سندھ کے کسی سرکاری اسکول میں استاد یا انتظامی عملے کا حصہ ہیں، تو آپ کو اپنی حاضری کے نئے ڈیجیٹل طریقہ کار کے لیے تیار رہنا چاہیے۔ اس بات کو یقینی بنائیں کہ آپ کا اسکول متعلقہ حکام سے رابطے میں ہے تاکہ بائیو میٹرک یا فیشل ڈیٹا کی رجسٹریشن میں کوئی تاخیر نہ ہو۔ والدین اور عام شہریوں کو چاہیے کہ وہ مقامی سطح پر اسکولوں کی کارکردگی پر نظر رکھیں اور دیکھیں کہ کیا اس نئے نظام سے اساتذہ کی باقاعدگی میں کوئی حقیقی بہتری آئی ہے۔

آگے کیا دیکھنا ہے؟

آنے والے مہینوں میں یہ دیکھنا ہوگا کہ حکومت سندھ اس پروجیکٹ کے پہلے مرحلے کو کتنی کامیابی سے نافذ کرتی ہے۔ آپ کو اس بات پر نظر رکھنی چاہیے کہ آیا محکمہ تعلیم دیہی علاقوں میں بجلی اور انٹرنیٹ کے بنیادی مسائل کو کیسے حل کرتا ہے، کیونکہ اسی پر پورے سسٹم کی کامیابی کا انحصار ہے۔