سندھ انتظامیہ اور وفاقی حکام نے شہری مراکز میں بڑھتے ہوئے درجہ حرارت اور آلودگی سے نمٹنے کے لیے صوبے بھر میں اربن فارسٹ گرین انیشیٹو شروع کرنے پر اتفاق کر لیا ہے۔ گورنر سندھ سید محمد نہال ہاشمی اور وزارت موسمیاتی تبدیلی و ماحولیاتی رابطہ کے وفاقی وزیر سینیٹر ڈاکٹر نے کراچی میں ہونے والی ایک اعلیٰ سطح کے اجلاس کے دوران اس ماحولیاتی فریم ورک کو حتمی شکل دی۔
اس مشترکہ کوشش کا مقصد میاواکی جنگلات کی تکنیک اور خالی سرکاری زمین کا استعمال کرتے ہوئے بڑے شہروں کے اندر دیسی پودوں کے گھنے جھنڈ بنانا ہے۔ حکام کی توجہ ایسے میٹروپولیٹن اضلاع پر ہے جو شدید صنعتی آلودگی اور ٹریفک کے دھوئیں کا شکار ہیں۔ پاکستان کے جنوبی علاقوں میں ہیٹ ویو کے بڑھتے ہوئے خطرات کے پیش نظر، یہ اربن فارستنگ مہم رہائشیوں کے لیے ایک اہم ماحولیاتی ڈھال ثابت ہوگی۔
اربن فارسٹ گرین انیشیٹو کے بنیادی مقاصد
- کراچی، حیدرآباد، سکھر اور دیگر بڑے شہری مرکزوں میں مقامی درختوں کے گھنے جنگلات کی تاسیس
- چھوٹے رقبوں پر تیزی سے بڑھوتری اور زیادہ سے زیادہ کاربن جذب کرنے کے لیے میاواکی تکنیک کا استعمال
- پودوں کی دیکھ بھال میں مقامی میونسپل کارپوریشنز، سول سادوسائٹی کی تنظیموں اور تعلیمی اداروں کی شمولیت
- صوبائی ماحولیاتی تحفظ ایجنسی کے تحت چلنے والے ڈیجیٹل ڈیش بورڈ کے ذریعے پودوں کی بقا کی شرح کی نگرانی
وفاقی وزارت نے موجودہ مالیاتی سال کے دوران پائلٹ منصوبوں کو شروع کرنے کے لیے تکنیکی اور مالیاتی سہولت فراہم کرنے کی یقین دہانی کرائی ہے۔ صوبائی محکموں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ اگلے مہینے کے آخر تک میونسپل حدود میں خالی سرکاری زمینوں کی نشاندہی کریں۔ مقامی حکام جنگلات کے ماہرین کے ساتھ مل کر ایسی اقسام کا انتخاب کریں گے جو مقامی زمین کی لوݨی اور پانی کی کمی برداشت کر سکیں۔
عام شہریوں کے لیے اس کا کیا مطلب ہے
اگر آپ کراچی یا سندھ کے کسی دوسرے گنجان آباد شہر میں رہتے ہیں، تو آپ بخوبی جانتے ہیں کہ کنکریٹ کے جنگلات اور دھول مٹی روزمرہ زندگی پر کیا اثر ڈالتی ہے۔ یہ اربن فارسٹ گرین انیشیٹو کنکریٹ سے بھرے محلوں میں درجہ حرارت کم کرنے اور ہوا میں موجود ذرات کو گھٹانے کے لیے ڈیزائن کیا گیا ہے۔ اگرچہ پودوں کو بڑا ہونے میں وقت لگتا ہے، لیکن یہ سرسبز علاقے بالآخر تفریحی مقامات فراہم کریں گے اور ہوا کے معیار کو بہتر بنائیں گے۔
ناقدین کا کہنا ہے کہ ماضی کی شجرکاری مہمات اکثر پانی کی کمی اور دیکھ بھال نہ ہونے کی وجہ سے ناکام ہوئیں۔ اس کا حل نکالنے کے لیے موجودہ معاہدے میں ہر نئے اربن فارسٹ کے لیے ٹریٹ شدہ گندے پانی کے ڈرپ اریگیشن سسٹم کی تنصیب لازمی قرار دی گئی ہے۔ شہری کمیٹیاں بھی دیکھ بھال کی نگرانی کر سکیں گی۔
آگے کیا دیکھنا ہے
زمین کی نشاندہی کی فہرستوں اور آنے والے ہفتوں میں متوقع افتتاحی تقریب کے حوالے سے سرکاری اعلانات پر نظر رکھیں۔ شجرکاری مہم میں رضاکارانہ طور پر حصہ لینے کے خواہشمند افراد سندھ انوائرمنٹل پروٹیکشن ایجنسی (SEPA) سے رابطہ کر سکتے ہیں یا شرکت کے ضوابط اور سائٹس کے شیڈول کے لیے وزارت موسمیاتی تبدیلی کی آفیشل ویب پورٹલ mcc.gov.pk ملاحظہ کر سکتے ہیں۔
