محکمہ موسمیات (PMD) نے سندھ کے موسم کی تازہ پیشگوئی جاری کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ اگلے 24 سے 48 گھنٹوں کے دوران صوبے کے بیشتر اضلاع میں شدید گرمی اور حبس کی صورتحال برقرار رہے گی۔ بحیرہ عرب سے آنے والی نمدار ہواؤں کے باعث درجہ حرارت میں اضافہ اور ہوا میں نمی کا تناسب بڑھنے سے محسوس ہونے والی گرمی واقعی درجہ حرارت سے کہیں زیادہ رہے گی۔

آپ کراچی، حیدرآباد یا سندھ کے بالائی زرعی علاقوں میں مقیم ہوں، رواں ویک اینڈ کے دوران شدید حبس اور گرمی کے باعث کھلے آسمان تلے کام کرنا دشوار ہو جائے گا۔

موسم کی تازہ ترین ایڈوائزری کے اہم نکات

محکمہ موسمیات کی جانب سے جاری کردہ پیشگوئی کے اہم نکات درج ذیل ہیں:

  • بنیادی پیشگوئی: سندھ کے تقریباً تمام اضلاع میں موسم شدید گرم، خشک اور حبس زدہ رہے گا۔
  • ساحلی اضلاع: کراچی، ٹھٹہ اور بدین میں درجہ حرارت 35 سے 38 ڈگری سینٹی گریڈ کے درمیان رہے گا جبکہ صبح اور شام کے وقت ہوا میں نمی کا تناسب 75 فیصد سے تجاوز کر سکتا ہے۔
  • اندرون سندھ: سکھر، لاڑکانہ، دادو اور شہید بینظیر آباد میں دن کا درجہ حرارت 40 سے 43 ڈگری سینٹی گریڈ تک پہنچنے کا امکان ہے۔
  • سمندری ہواؤں کی صورتحال: دن کے وقت سمندری ہوائیں معطل یا کمزور رہنے کے باعث ساحلی علاقوں میں حبس کا احساس شدید رہے گا۔
  • سرکاری پورٹل: یومیہ موسمیاتی بلیٹن محکمہ موسمیات کی ویب سائٹ pmd.gov.pk پر دستیاب ہے۔

علاقے کے لحاظ سے سندھ کے موسم کا جائزہ

کراچی میں قائم محکمہ موسمیات کے علاقائی مرکز کی تازہ رپورٹ کے مطابق ساحلی اور اندرونی اضلاع کے موسم میں واضح فرق دیکھا جا رہا ہے۔ کراچی جیسے ساحلی شہروں میں اگرچہ تھرمامیٹر پر درجہ حرارت 38 ڈگری سے نیچے رہے گا، لیکن ہوا میں نمی کا زیادہ تناسب 'ہیٹ انڈیکس' (انسانی جسم کو محسوس ہونے والی گرمی) کو 42 ڈگری سینٹی گریڈ سے اوپر لے جائے گا۔ ہوا میں موجود نمی پسینہ سوکھنے کے قدرتی عمل کو متاثر کرتی ہے، جس سے محنت کشوں اور موٹر سائیکل سواروں میں گرمی سے غشی یا ڈھال ہونے کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔

دوسری جانب، اندرون سندھ کے اضلاع جیسے سکھر، لاڑکانہ، جیکب آباد اور شہید بینظیر آباد میں سورج کی شدید تپش کا سامنا رہے گا۔ یہ علاقے دن کے وقت سمندری ہوا سے محروم رہتے ہیں جس کے باعث دوپہر کو زمین تیزی سے گرم ہو جاتی ہے۔ کھلے اور دیہی علاقوں میں تیز دھوپ کے دوران گرد آلود ہوائیں چلنے کا بھی امکان ہے۔

مرکزی سندھ بشمول حیدرآباد، میرپورخاص اور ٹنڈو الہیار میں دن کا درجہ حرارت 38 سے 40 ڈگری سینٹی گریڈ کے درمیان رہے گا۔ یہاں ہوا میں 50 سے 60 فیصد نمی کی موجودگی کے باعث بالخصوص بجلی کی بندش کے اوقات میں شدید بوجھل پن اور تھکاوٹ محسوس ہوگی۔

برقی رو کی طلب اور عوام پر اثرات

شدید گرمی اور حبس کا براہ راست اثر گھریلو معیشت اور مقامی نظام پر پڑتا ہے۔ جب زیادہ نمی کی وجہ سے کولنگ آلات پر بوجھ بڑھتا ہے تو کراچی میں کے الیکٹرک جبکہ اندرون سندھ حیسکو اور سیپکو کے علاقوں میں بجلی کی طلب میں نمایاں اضافہ ہو جاتا ہے۔ دوپہر کے اوقات میں غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ سے بچوں اور بزرگوں کے لیے گرمی کی شدت برداشت کرنا انتہائی مشکل ہو جاتا ہے۔

اس کے علاوہ، تیز گرمی کے باعث پانی کا استعمال بھی بڑھ جاتا ہے جس سے بلدیاتی فراہمِ آب کا نظام دباؤ کا شکار ہوتا ہے۔ اگر آپ واٹر ٹینکرز یا سرکاری سپلائی پر انحصار کرتے ہیں تو پمپنگ اسٹیشنز پر بوجھ کے باعث سپلائی میں تاخیر ہو سکتی ہے۔

اسی طرح بغیر ایئر کنڈیشنڈ والی عوامی ٹرانسپورٹ کی گاڑیاں کراچی کی شاہراہِ فیصل یا حیدرآباد کی آٹو بھان روڈ جیسے مصروف روٹس پر سفر کے دوران شدید تپش کا مرکز بن جاتی ہیں۔

گرمی اور حبس سے بچاؤ کے لیے احتیاطی تدابیر

طبی ماہرین اور ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹیز نے شہریوں کو مندرجہ ذیل احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کی ہدایت کی ہے:

  • پانی کا وافر استعمال: پیاس نہ لگنے کی صورت میں بھی دن بھر وقتاً فوقتاً پانی پییں۔ جسم میں نمکیات کی کمی پوری کرنے کے لیے او آر ایس، لیموں پانی یا لسی کا استعمال کریں۔
  • شدید دھوپ سے بچیں: صبح 11 بجے سے سہ پہر 4 بجے کے درمیان بلا ضرورت دھوپ میں نکلنے سے گریز کریں۔ اگر باہر جانا ضروری ہو تو ہلکے رنگ اور سوتی کپڑے پہنیں۔
  • سر کو ڈھانپ کر رکھیں: باہر نکلتے وقت ٹوپی، رومال یا چھتری کا استعمال کریں اور دھوپ کے چشمے پہنیں۔
  • گھروں میں ہوا کی آمد و رفت: دن کے وقت کھڑکیوں پر پردے رکھیں تاکہ تپش اندر نہ آئے، جبکہ شام کو کھڑکیاں کھول دیں تاکہ تازہ ہوا آ سکے۔
  • بچوں اور بزرگوں کا خاص خیال رکھیں: کمسن بچوں، بزرگوں اور دل یا سانس کے مریضوں کی صحت پر نظر رکھیں۔ بند گاڑی میں بچوں یا پالتو جانوروں کو ہرگز اکیلا نہ چھوڑیں۔

آنے والے دنوں میں موسم کی صورتحال

محکمہ موسمیات کے مطابق ہوا میں نمی اور گرمی کی یہ لہر آنے والے چند دنوں تک برقرار رہنے کی توقع ہے جب تک کہ سمندری ہوائیں معمول پر نہ آئیں یا کوئی نیا موسمیاتی نظام بارش نہ لائے۔ موسمیاتی ماہرین بحیرہ عرب کے اوپر ہوا کے دباؤ میں تبدیلیوں کی نگرانی کر رہے ہیں جس سے سندھ کے جنوبی اضلاع میں مقامی طور پر آندھی یا بوند باندی کا امکان پیدا ہو سکتا ہے۔

شہریوں کو ہدایت کی جاتی ہے کہ وہ کسی بھی طویل سفر یا بیرونی سرگرمی سے قبل پی ایم ڈی کی ویب سائٹ یا ایپ سے تازہ ترین معلومات حاصل کریں۔ کراچی اور حیدرآباد کی بلدیاتی انتظامیہ کو بھی ہدایت کی گئی ہے کہ وہ تمام بڑے سرکاری ہسپتالوں میں ہیٹ اسٹروک وارڈز کو فعال رکھیں۔