سندھ حکومت کی جانب سے متعارف کرایا جانے والا سندھ یوتھ کارڈ منصوبہ صوبے بھر کے ایک لاکھ نوجوانوں کو تعلیمی وظائف اور مالی معاونت فراہم کرنے کے لیے بنایا گیا ہے۔ اگر آپ کراچی سے لے کر کشمرم تک سندھ کے کسی بھی علاقے میں رہائش پذیر ہیں اور مخصوص عمر کی حد میں آتے ہیں، تو یہ پروگرام آپ کی ڈگری کی فیس یا چھوٹے کاروبار کے آغاز میں مددگار ثابت ہو سکتا ہے۔ صوبائی حکام نے مہنگائی کے اس دور میں متوسط اور کم آمدنی والے گھرانوں پر دباؤ کم کرنے کے لیے یہ قدم اٹھایا ہے۔ اگر آپ اس عمل کو درست طریقے سے سمجھ لیں تو غیر ضروری سرکاری چکروں سے بچ سکتے ہیں۔

سندھ یوتھ کارڈ کے لیے کون اہل ہے؟

اہلیت کا انحصار صوبائی انتظامیہ کی طرف سے مقرر کردہ چند بنیادی شرائط پر ہے۔ آپ کے پاس سندھ کے پتے کا حامل نادرا کا کمپیوٹرائزڈ شناختی کارڈ (CNIC) ہونا لازمی ہے۔ عمر کی حد عام طور پر 18 سے 30 سال کے درمیان رکھی گئی ہے، البتہ تکنیکی تربیتی کورسز کے لیے اس میں کچھ لچک ہو سکتی ہے۔ صوبے کے تسلیم شدہ تعلیمی اداروں میں زیر تعلیم طلباء تعلیمی وظائف کے لیے مضبوط امیدوار ہیں۔ اس کے علاوہ اپنا چھوٹا کاروبار شروع کرنے کے خواہشمند نوجوان بلاسود قرضوں کے زمرے میں درخواست دے سکتے ہیں۔

  • سندھ کا ڈومیسائل اور درست شناختی کارڈ
  • عمر اٹھارہ سے تیس سال کے درمیان
  • باقاعدہ طالب علم یا نیا کاروباری امیدوار
  • کسی بھی سرکاری قرضے کا نادہندہ نہ ہونا

درخواست جمع کرانے کا طریقہ کار

حکام نے درخواستیں وصول کرنے کے لیے ایک آن لائن پورٹل بنانے کے ساتھ ساتھ ضلعی دفاتر میں خصوصی ڈیسک قائم کرنے کا اعلان بھی کیا ہے۔ پورٹل کھولنے سے پہلے اپنی تعلیمی اسناد، سرپرست کا آمدنی سرٹیفکیٹ اور پاسپورٹ سائز تصاویر تیار رکھیں۔ فارم میں درج کی گئی معلومات بالکل درست ہونی چاہیے کیونکہ شناختی کارڈ کی غلط معلومات کی صورت میں درخواست خود بخود مسترد ہو جاتی ہے۔ فارم جمع کرانے کے بعد اپنا ٹریکنگ نمبر محفوظ رکھیں تاکہ اسٹیٹس چیک کیا جا سکے۔

  1. سرکاری سندھ یوتھ پورٹل یا متعلقہ ضلعی مرکز کا رخ کریں۔
  2. اپنے فعال موبائل نمبر اور شناختی کارڈ کے ذریعے اکاؤنٹ بنائیں۔
  3. اپنا ڈومیسائل، تعلیمی اسناد اور شناختی کارڈ کی اسکین کاپیاں اپ لوڈ کریں۔
  4. تعلیمی اسکالرشپ یا کاروباری قرضے میں سے اپنی پسند کے زمرے کا انتخاب کریں۔
  5. درخواست جمع کرائیں اور ڈیجیٹل رسید اپنے پاس محفوظ رکھیں۔

اب آپ کو کیا کرنا چاہیے؟

آخری تاریخ کا انتظار کیے بغیر اپنے کاغذات جلد از جلد تیار کر لیں کیونکہ آخری دنوں میں پورٹل پر رش بڑھ جاتا ہے۔ پورٹل کے فعال ہونے کی حتمی تاریخ کے لیے محکمہ امور نوجوانوں کی آفیشل ویب سائٹ اور مقامی اخبارات پر نظر رکھیں۔ اگر آپ کا نام شارٹ لسٹ ہو جاتا ہے تو تصدیق کے عمل کے لیے تیار رہیں جہاں مقامی حکام آپ کی رہائش اور مالی ضرورت کا جائزہ لیں گے۔ پاکستان میں سرکاری تصدیقی عمل میں عموماً چند ہفتے لگ جاتے ہیں اس لیے تحمل کا مظاہرہ کریں۔