مشہور گلوکارہ اور نغمہ نگار کارلی سائمن نے باضابطہ طور پر تصدیق کی ہے کہ وہ پارکنسن (Parkinson’s) کی بیماری میں مبتلا ہو چکی ہیں۔ یہ خبر ان کے مداحوں کے لیے ایک بڑا صدمہ ہے، کیونکہ وہ حال ہی میں جلد کے کینسر (skin cancer) کے علاج سے بھی گزر چکی ہیں۔

کارلی سائمن پارکنسن کی تشخیص کی تفصیلات

81 سالہ گلوکارہ نے ایسوسی ایٹڈ پریس کو دیے گئے ایک بیان میں بتایا کہ وہ اب اپنی زندگی کو اس نئی طبی صورتحال کے مطابق ڈھالنے کی کوشش کر رہی ہیں۔ پارکنسن ایک اعصابی نظام کی بیماری ہے جو انسان کی حرکت اور توازن کو متاثر کرتی ہے۔ بیک وقت کینسر اور پارکنسن جیسی بیماریوں کا سامنا کرنا کسی بھی شخص کے لیے ایک بڑا چیلنج ہوتا ہے۔

بیماری کے اثرات اور احتیاطی تدابیر

پارکنسن کی بیماری کی علامات میں اکثر ہاتھوں کا کانپنا، جسم میں سختی اور چلنے پھرنے میں دشواری شامل ہوتی ہے۔ طبی ماہرین کے مطابق، اس بیماری کا کوئی حتمی علاج نہیں ہے، لیکن صحیح ادویات اور فزیوتھراپی کے ذریعے اس کی علامات کو کنٹرول کیا جا سکتا ہے۔

  • باقاعدگی سے طبی معائنہ کروائیں۔
  • اعصابی مسائل کی صورت میں ماہرِ اعصاب (Neurologist) سے رجوع کریں۔
  • جلد پر کسی بھی غیر معمولی نشان کو نظر انداز نہ کریں اور ڈرماٹولوجسٹ کو دکھائیں۔

اب آگے کیا ہوگا؟

پاکستان میں پارکنسن جیسے امراض کے لیے آغا خان یونیورسٹی ہسپتال اور دیگر بڑے طبی مراکز میں جدید سہولیات موجود ہیں۔ اگر آپ یا آپ کے پیاروں میں ایسی کوئی علامات ظاہر ہوں تو فوری طور پر ڈاکٹر سے رابطہ کریں۔ کارلی سائمن کی ٹیم کی جانب سے ان کی صحت کے بارے میں مزید اپ ڈیٹس کا انتظار کیا جا رہا ہے۔ فی الحال، گلوکارہ اپنی پرائیویسی اور علاج پر توجہ مرکوز کیے ہوئے ہیں۔