دنیا بھر کی آٹوموبائل کمپنیاں نئی نسل کی ev batteries تیار کرنے میں مصروف ہیں جو انتہائی تیز رفتار چارجنگ اور حیرت انگیز ڈرائیونگ رینج فراہم کرنے کا دعویٰ کرتی ہیں۔ اس تکنیکی پیش رفت کا مقصد ڈرائیورز کو درپیش دو بڑے مسائل کا حل نکالنا ہے، جن میں پاور اسٹیشنز پر طویل انتظار اور طویل سفر کے دوران بیٹری ختم ہونے کا خوف شامل ہے۔
روایتی لیتھিয়ন آئن پیکس کو مکمل چارج ہونے میں گھنٹوں لگتے ہیں اور شدید سردی میں ان کی کارکردگی بھی کم ہو جاتی ہے، تاہم اب لیبارٹریز میں سالڈ اسٹیٹ اور جدید سلکان انوڈ ڈیزائنز پر کام تیزی سے جاری ہے۔ یہ نئی کیمیائی ترکیبیں توانائی کی تیزی سے منتقلی کو محفوظ بناتی ہیں، جس سے گاڑی کو پیٹرول ڈلوانے جتنا ہی وقت درکار ہوتا ہے۔
نئی ٹیکنالوجی کیا خصوصیات لائے گی؟
تحقیقی لیبارٹریز سے سامنے آنے والی تفصیلات ذاتی نقل و حمل میں ایک بڑے انقلاب کی طرف اشارہ کرتی ہیں۔ مینوفیکچررز دو بنیادی اہداف پر کام کر رہے ہیں جو الیکٹرک گاڑیوں کے استعمال کا انداز بدل دیں گے۔
- تقریباً خالی بیٹری کو صرف چھ منٹ میں مکمل چارج کرنا۔
- ایک چارج پر ایک ہزار کلومیٹر تک کا طویل سفر فراہم کرنا۔
- درجہ حرارت میں شدید تبدیلیوں کے دوران بھی بیٹری کی کارکردگی برقرار رکھنا۔
- نایاب معدنیات جیسے کوبالٹ پر انحصار کم کرکے پیدیواری لاگت میں کمی لانا۔
ان بہتریوں کا مطلب یہ ہے کہ نظرياتی طور پر ایک الیکٹرک کار کراچی سے رحیم یار خان تک کا سفر بغیر کسی اسٹاپ کے طے کر سکے گی۔ جب آپ کو واقعی چارجنگ کی ضرورت ہوگی، تو پمپ پر انتظار کا وقت پانی کی بوتل خریدنے جتنا کم ہو جائے گا۔
پاکستان پر اس کا کیا اثر پڑے گا؟
مہنگے پیٹرول اور غیر یقینی ایندھن کی سپلائی سے پریشان مقامی موٹر وے اور سڑکوں کے مسافروں کے لیے یہ خبریں دلکش ہیں، لیکن پاکستانی سڑکوں پر اس کا نفاذ طویل وقت مانگتا ہے۔ بھاری کسٹم ڈیوٹی، ریگولیٹری رکاوٹوں اور کمزور بجلی کے نظام کی وجہ سے معیاری الیکٹرک گاڑیوں کی درآمد اب بھی ایک مہنگا سودا ہے۔
مزید برآں، لاہور، اسلام آباد اور کراچی جیسے بڑے شہروں میں پبلک چارجنگ کا بنیادی ڈھانچہ اب بھی محدود ہے۔ جب تک بجلی فراہم کرنے والے ادارے موٹر وے نیٹ ورک پر مستحکم کنکشنز اور تیز رفتار چارجرز کی فراہمی یقینی نہیں بناتے، اس ٹیکنالوجی تک عام آدمی کی رسائی مشکل رہے گی۔
آپ کو کیا کرنا چاہیے؟
اگر آپ اس وقت گاڑی خریدنے کا ارادہ رکھتے ہیں، تو مقامی شورومز میں ان بیٹریوں کے آنے کا انتظار کر کے اپنی خرید میں تاخیر نہ کریں۔ کمرشل پیمانے پر پیداوار کو عام مارکیٹ اور سستی قیمتوں تک پہنچنے میں ابھی کئی سال باقی ہیں۔
اس کے بجائے فیول کی بچت کرنے والی گاڑیوں، ہائبرڈ آپشنز یا مقامی مارکیٹ میں دستیاب الیکٹرک موٹر سائیکلوں پر توجہ دیں۔ نئی آٹوموٹو ٹیکنالوجی میں بڑی رقم لگانے سے پہلے مقامی توانائی کی پالیسیوں اور درآمدی ٹیکسوں میں تبدیلیوں پر نظر رکھیں۔
آگے کیا دیکھنا ہوگا؟
آئندہ دو سالوں کے دوران بڑی عالمی سپلائرز کی جانب سے بڑے پیمانے پر پیداوار کے شیڈول کا انتظار کریں۔ انجینئرنگ ڈویلپمنٹ بورڈ کی جانب سے ای وی انفراسٹرکچر کے لیے مراعات اور ایم ٹو موٹر وے پر فاسٹ چارجنگ اسٹیشنز کے پائلٹ پروجیکٹس سے متعلق پالیسی اپ ڈیٹس پر نظر رکھیں۔
