خیبر پختونخوا حکومت نے اس بات کا اعادہ کیا ہے کہ نوجوانوں کے روزگار کے لیے فنی تربیت صوبے میں بے روزگاری کے خاتمے کا واحد پائیدار راستہ ہے۔ وزیر اعلیٰ کے معاون خصوصی برائے فنی تعلیم، عثمان خان بیٹنی نے پشاور میں اپنے بیان میں کہا ہے کہ روایتی تعلیم کے ساتھ ساتھ فنی اور پیشہ ورانہ مہارتوں کا حصول اب وقت کی اہم ضرورت بن چکا ہے۔

فنی تربیت کیوں ضروری ہے؟

گزشتہ کئی برسوں سے روایتی تعلیمی ڈگریوں اور مارکیٹ کی ضروریات کے درمیان خلیج بڑھ رہی ہے، جس کی وجہ سے ہزاروں نوجوان ڈگریاں لینے کے باوجود بیروزگار ہیں۔ حکومتی حکمت عملی کا بنیادی مقصد اب یہ ہے کہ نوجوانوں کو ایسی مہارتیں سکھائی جائیں جن کی نجی شعبے میں مانگ ہے۔ اس اقدام کا مقصد نوجوانوں کو صرف نوکری کا متلاشی بنانا نہیں بلکہ انہیں اس قابل بنانا ہے کہ وہ اپنا روزگار خود شروع کر سکیں۔

تعلیمی نظام میں اسٹریٹجک تبدیلی

عثمان خان بیٹنی کے مطابق، حکومت اب فنی تعلیمی ڈھانچے کو جدید خطوط پر استوار کر رہی ہے۔ اس تبدیلی کے اہم نکات درج ذیل ہیں:

  • نصاب کو جدید صنعتی ضروریات کے مطابق اپ ڈیٹ کرنا۔
  • دور دراز علاقوں میں فنی تعلیمی مراکز تک رسائی کو آسان بنانا۔
  • نجی صنعتوں اور فنی تربیت کے مراکز کے درمیان روابط کو مضبوط کرنا۔

حکومت کا ماننا ہے کہ اگر تربیت کا معیار مارکیٹ کی ضرورت کے مطابق ہوگا تو نوجوانوں کے لیے روزگار کے مواقع خود بخود پیدا ہوں گے۔

آپ کو کیا کرنا چاہیے؟

اگر آپ خیبر پختونخوا میں طالب علم ہیں یا روزگار کی تلاش میں ہیں، تو آپ کو ٹیویٹا (TEVTA) کے پی کی آفیشل ویب سائٹ پر نظر رکھنی چاہیے۔ آنے والے مہینوں میں حکومت کی جانب سے مختلف شارٹ کورسز اور تربیتی پروگراموں کا اعلان متوقع ہے۔ ان کورسز میں داخلہ لے کر آپ مارکیٹ میں اپنی اہمیت بڑھا سکتے ہیں۔

مستقبل کا لائحہ عمل

آنے والے وقت میں حکومت اس منصوبے کو صوبے کے مزید اضلاع تک پھیلانے کا ارادہ رکھتی ہے۔ اس پروگرام کی کامیابی کا انحصار اس بات پر ہوگا کہ کتنے نوجوان تربیت مکمل کرنے کے بعد مستقل روزگار حاصل کر پاتے ہیں۔ آپ کو بجٹ 2027 میں ان تربیتی پروگراموں کے لیے مختص فنڈز اور سہولیات پر نظر رکھنی چاہیے تاکہ آپ بروقت ان مواقع سے فائدہ اٹھا سکیں۔