بڑھتی ہوئی پیداواری لاگت اور مہنگی بجلی نے پاکستان کے صنعتی شعبے کو شدید بحران میں مبتلا کر دیا ہے، جس سے ملک بھر کی صنعتوں کی بقا کو خطرہ لاحق ہے۔ کراچی کے سائٹ (SITE) ایریا سمیت دیگر صنعتی مراکز کے رہنماؤں نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ فوری طور پر توانائی کے نرخوں میں کمی کرے تاکہ فیکٹریوں کو بند ہونے سے بچایا جا سکے۔

صنعتی پیداواری بحران کی سنگینی

یہ industrial production crisis بنیادی طور پر بجلی کی بلند قیمتوں، ایندھن کے مہنگے نرخوں اور غیر مستقل معاشی پالیسیوں کا نتیجہ ہے۔ معروف کاروباری رہنما عبدالرحمٰن فڈہ کا کہنا ہے کہ اگر حکومت نے مسابقتی انرجی ٹیرف فراہم نہ کیے تو مقامی صنعتیں عالمی منڈی میں مقابلہ کرنے کے قابل نہیں رہیں گی۔ پیداواری لاگت میں اضافے کے باعث پاکستانی مصنوعات مقامی اور بین الاقوامی دونوں مارکیٹوں میں مہنگی ہو رہی ہیں۔

صنعتکاروں کو درپیش اہم مسائل درج ذیل ہیں:
- بجلی کے نرخ جو خطے کے دیگر ممالک کے مقابلے میں بہت زیادہ ہیں۔
- پالیسیوں میں تسلسل کا فقدان جس سے طویل مدتی منصوبے بنانا ناممکن ہے۔
- کاروباری اعتماد میں کمی، جس سے نئی سرمایہ کاری رک گئی ہے۔

کاروباری اعتماد کی بحالی کیوں ضروری ہے؟

سائٹ ایسوسی ایشن کے صدر کا کہنا ہے کہ حکومت کو صرف اعلانات کے بجائے عملی اقدامات کرنے ہوں گے۔ جب سائٹ، کورنگی یا فیصل آباد جیسے صنعتی زونز میں فیکٹریاں بجلی کے بھاری بلوں کے بوجھ تلے دب جاتی ہیں، تو اس کا اثر پوری قومی معیشت پر پڑتا ہے۔ اس سے نہ صرف بے روزگاری میں اضافہ ہوتا ہے بلکہ ایف بی آر (FBR) کو ملنے والے ٹیکس ریونیو میں بھی کمی واقع ہوتی ہے۔

آگے کیا ہونے والا ہے؟

اگر آپ مینوفیکچرنگ یا ایکسپورٹ کے شعبے سے وابستہ ہیں، تو نیپرا (NEPRA) کے بجلی کے نرخوں کے فیصلوں پر نظر رکھیں۔ حکومت پر دباؤ ہے کہ وہ برآمد کنندگان کے لیے توانائی کی قیمتوں میں توازن پیدا کرے، تاہم اب تک کوئی حتمی فیصلہ نہیں ہوا ہے۔ کاروباری مالکان کو اسٹیٹ بینک آف پاکستان (SBP) کی شرح سود پر بھی کڑی نظر رکھنے کی ضرورت ہے کیونکہ یہ آپ کے آپریٹنگ اخراجات کو براہ راست متاثر کرتی ہے۔

حکومت نے توانائی کے مکس کو بہتر بنانے کا وعدہ تو کیا ہے، لیکن نرخوں میں کمی کی کوئی حتمی تاریخ تاحال نہیں دی گئی۔ صنعتی ریلیف پیکیجز کے بارے میں تازہ ترین معلومات کے لیے وزارتِ تجارت کی سرکاری ویب سائٹ ملاحظہ کرتے رہیں۔