صحافی سہیل آفریدی کے ساتھ پیش آنے والے واقعے کے بعد ملک بھر میں سیاسی ہلچل تیز ہو گئی ہے۔ سہیل آفریدی کی جانب سے ایک سادہ لباس شخص سے ہونے والی تلخ کلامی، جس میں ان سے شناخت پوچھی گئی تھی، اب ایک بڑے سیاسی احتجاج کی شکل اختیار کر گئی ہے۔ اس واقعے کے بعد سوشل میڈیا پر بحث چھڑ گئی ہے اور پی ٹی آئی قیادت نے کارکنوں کو سڑکوں پر نکلنے کی ہدایت کی ہے۔

Sohail Afridi incident کی تفصیلات

وائرل ہونے والی ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ سہیل آفریدی سے ایک سادہ لباس شخص نے استفسار کیا کہ وہ کون ہیں، جس پر صحافی نے انہیں کرارا جواب دیتے ہوئے اپنی شناخت بطور صحافی کرائی۔ یہ Sohail Afridi incident اب سیاسی کارکنوں کے لیے ایک علامت بن چکا ہے، جس کے بعد پی ٹی آئی نے ملک گیر سطح پر احتجاج کا فیصلہ کیا ہے۔

احتجاج کا لائحہ عمل

پارٹی قیادت کی جانب سے کارکنوں کو واضح ہدایات جاری کی گئی ہیں:

  • وقت: آج رات 10 بجے
  • مقامات: ملک بھر کے تمام چوک اور چوراہے
  • ہدایات: کارکنان پاکستان اور پی ٹی آئی کے پرچم اٹھا کر نکلیں

کارکنوں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ اپنے اپنے علاقوں کے چوکوں کو 'ڈی چوک' کا منظر پیش کرنے کے لیے استعمال کریں۔ یہ احتجاج موجودہ سیاسی حالات اور صحافیوں و سیاسی کارکنوں کے ساتھ روا رکھے گئے رویے کے خلاف کیا جا رہا ہے۔

عوام کے لیے ہدایات اور پیش رفت

آج رات 10 بجے کے بعد سے اہم شہروں کے چوکوں اور شاہراہوں پر سیکیورٹی کے سخت انتظامات متوقع ہیں۔ اگر آپ ان علاقوں میں موجود ہیں تو ٹریفک جام یا پولیس کی جانب سے راستے بند ہونے کی صورتحال کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ شہریوں کو مشورہ دیا جاتا ہے کہ وہ اپنے ارد گرد کی صورتحال پر نظر رکھیں اور کسی بھی قسم کے تصادم سے گریز کریں۔ مزید پیش رفت کے لیے باخبر ذرائع سے رابطے میں رہیں کیونکہ صورتحال کسی بھی وقت تبدیل ہو سکتی ہے۔