پاکستان میں پنشن فراڈ کا ایک انتہائی افسوسناک اور حیران کن واقعہ سامنے آیا ہے جس میں ایک بیٹے نے اپنے والد کی موت کو دو سال تک چھپائے رکھا تاکہ وہ سرکاری پنشن کی رقوم وصول کرتا رہے۔ ریٹائرڈ ٹیچر کی عمر تقریباً 90 برس تھی، جن کی طبعی موت کے بعد ان کے بیٹے نے لاش کو فریزر میں رکھ دیا تاکہ کسی کو شک نہ ہو۔

پنشن فراڈ کیس کی تفصیلات

ابتدائی اطلاعات کے مطابق، یہ واقعہ اس وقت منظر عام پر آیا جب حکام کو مشکوک سرگرمیوں کی اطلاع ملی۔ پولیس نے جب گھر پر چھاپہ مارا تو ریٹائرڈ استاد کی لاش فریزر سے برآمد ہوئی۔ ملزم کا اعترافی بیان ہے کہ والد کی موت دو برس قبل طبعی وجوہات کی بنا پر ہوئی تھی۔

  • متوفی: ریٹائرڈ ٹیچر، عمر تقریباً 90 برس۔
  • طریقہ واردات: لاش کو فریزر میں محفوظ کیا گیا تاکہ موت کی اطلاع نہ دی جا سکے۔
  • دورانیہ: دو سال تک مسلسل پنشن کی رقوم وصول کی گئیں۔
  • موجودہ صورتحال: پولیس نے لاش قبضے میں لے کر قانونی کارروائی شروع کر دی ہے۔

سرکاری نظام میں سقم کا فائدہ

یہ واقعہ اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ پنشن وصولی کے نظام میں موجود خامیوں کا کس طرح فائدہ اٹھایا جا سکتا ہے۔ اگرچہ حکومت نے بائیو میٹرک تصدیق کا عمل لازمی قرار دیا ہے، لیکن اس کے باوجود بعض افراد بینک کارڈز یا ذاتی دستاویزات کے غلط استعمال سے حکام کو دھوکہ دینے میں کامیاب ہو جاتے ہیں۔

سرکاری فنڈز میں خرد برد اور موت کی اطلاع چھپانا سنگین قانونی جرم ہے۔ ملزم پر فراڈ، شواہد چھپانے اور لاش کی بے حرمتی سمیت دیگر دفعات کے تحت مقدمہ درج کیا جائے گا۔ قانونی ماہرین کا کہنا ہے کہ برآمد ہونے والی لاش اس کیس میں مرکزی ثبوت کے طور پر استعمال ہوگی۔

اب کیا ہوگا؟

پولیس اس بات کی تحقیقات کر رہی ہے کہ ملزم نے دو سال تک بائیو میٹرک یا فزیکل ویریفکیشن کے عمل کو کیسے چکمہ دیا۔ حکام کی جانب سے گزشتہ 24 ماہ کے دوران ہونے والی پنشن کی ادائیگیوں کا آڈٹ بھی کیا جائے گا۔ یہ واقعہ اس بات کا متقاضی ہے کہ پنشن کی تقسیم کے نظام کو مزید شفاف اور فول پروف بنایا جائے۔ عوام کو چاہیے کہ اگر وہ اپنے اردگرد سرکاری فنڈز یا پنشن کے غلط استعمال کی کوئی مشکوک سرگرمی دیکھیں تو فوری طور پر متعلقہ پولیس اسٹیشن یا اکاؤنٹنٹ جنرل (AG) آفس کو مطلع کریں۔