جنوبی افریقی وزیر کھیل، فنون اور ثقافت گیٹن مکینزی پارلیمنٹ کے اجلاس سے اس وقت غائب ہو گئے جب ان کے فیفا ورلڈ کپ کے وفد پر مبینہ طور پر 31 ملین رینڈ کے بھاری اخراجات پر تحقیقات شروع کی گئیں۔ ڈیموکریٹک الائنس (ডিএ) کی جانب سے اس معاملے پر کڑے سوالات اٹھائے جا رہے ہیں، لیکن وزیر موصوف نے ایوان میں جواب دینے سے گریز کیا۔ یہ صورتحال ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب سرکاری فنڈز کے بے دریغ استعمال پر عام شہریوں اور سیاسی حریفوں کی طرف سے شدید تنقید کی جا رہی ہے۔
فیفا ورلڈ کپ کے اخراجات پر تنازعہ
بڑے پیمانے پر ہونے والے مالیاتی مباحثوں میں gayton mckenzie fifa world cup probe نے ملکی سیاست کو گرما دیا ہے۔ ڈی اے کا الزام ہے کہ وزیر اور ان کے ہمراہی وفد نے غیر ضروری اور فضول دوروں پر عوام کے ٹیکس کا پیسہ پانی کی طرح بہایا۔ کل لاگت کا تخمینہ تقریبا 31 ملین رینڈ لگایا گیا ہے، جس کی کوئی معقول توجیہہ تاحال پیش نہیں کی گئی۔ پارلیمانی کمیٹی کے ارکان اس بات پر سخت برہم ہیں کہ منتخب نمائندے عوامی خزانے کو ذاتی دوروں کے لیے استعمال کر رہے ہیں۔
پارلیمنٹ سے فرار کے الزامات
اپوزیشن جماعتوں کا کہنا ہے کہ وزیر موصوف نے جواب دہی سے بچنے کے لیے دانستہ طور پر پارلیمنٹ سے دوری اختیار کی۔ جب ان سے اخراجات کی تفصیلات مانگی گئیں تو ایوان میں ان کی عدم موجودگی نے شبہات کو مزید گہرا کر دیا۔ پبلک اکاؤنٹس کی پارلیمانی کمیٹی اب اس معاملے کی باقاعدہ انکوائری کر رہی ہے تاکہ یہ معلوم کیا جا سکے کہ یہ بھاری رقم کن مدات میں خرچ کی گئی۔
آگے کیا ہوگا؟
مدافعتی بیانات کے باوجود، اس تحقیقات کے اثرات دور رس ہوں گے۔ آپ کو اس بات پر نظر رکھنی چاہیے کہ آیا آڈیٹر جنرل اس معاملے میں براہ راست مداخلت کرتا ہے یا نہیں۔ اگر الزامات ثابت ہوتے ہیں تو وزیر پر سیاسی دباؤ ناقابل برداشت ہو جائے گا، جس سے ان کے عہدے پر بھی سوالیہ نشان لگ سکتا ہے۔
