جنوبی کوریا میں شدید گرمی کی لہر کے دوران پیر، 3 اگست 2026 کو پارہ ریکارڈ سطح پر پہنچ گیا۔ ملک کے کئی حصوں میں درجہ حرارت 40 ڈگری سینٹی گریڈ تک جا پہنچا ہے، جس کے بعد دارالحکومت سیول سمیت مختلف شہروں میں ہنگامی وارننگ جاری کر دی گئی ہے۔ شدید گرمی کی وجہ سے روزمرہ زندگی مفلوج ہو کر رہ گئی ہے اور حکام نے شہریوں کو گھروں کے اندر رہنے کی ہدایت کی ہے۔

ملک بھر میں درجہ حرارت میں ریکارڈ اضافہ

جنوبی کوریا میں گرمی کی یہ لہر اگست کے مہینے میں غیر معمولی شدت اختیار کر چکی ہے۔ پیر، 3 اگست 2026 کو کئی علاقوں میں درجہ حرارت نے پچھلے تمام ریکارڈ توڑ دیے۔ موسمیاتی محکمے کے مطابق بعض مقامات پر پارہ سیدھا 40 ڈگری پر جا پہنچا، جس پر حکومت نے ریڈ الرٹ جاری کر دیا۔

صحت عامہ کے محکموں نے پبلک ٹرانسپورٹ کے اڈوں پر پانی کی بوتلیں تقسیم کرنا شروع کر دی ہیں۔ بزرگ شہریوں اور کھلے آسمان تلے کام کرنے والے مزدوروں کو ہیٹ اسٹروک سے بچانے کے لیے خصوصی ہدایات جاری کی گئی ہیں۔ اسپتالوں میں گرمی سے متاثرہ افراد کے داخلے میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔

ہنگامی اقدامات اور سیول انتظامیہ کے احکامات

سیول کی انتظامیہ نے بحران سے نمٹنے کے لیے ہنگامی پروٹوکول نافذ کر دیے ہیں۔ موبائل فونز کے ذریعے شہریوں کو پیغام بھیجے گئے ہیں کہ وہ صبح 11 بجے سے شام 4 بجے تک دھوپ میں نکلنے سے گریز کریں۔ شہر کے پارکس اور سب وے اسٹیشنز کو عارضی کولنگ شیلٹرز میں تبدیل کر دیا گیا ہے۔

بجلی کی کھپت میں اضافے کے پیش نظر حکام نے شہریوں سے اپیل کی ہے کہ وہ شام کے اوقات میں بجلی کے غیر ضروری استعمال سے بچیں تاکہ نظامِ توانائی کو برقرار رکھا جا سکے۔ وزارت داخلہ کا کہنا ہے کہ طبی سامان اور فینز کا کافی ذخیرہ موجود ہے، تاہم احتیاط سب سے اہم ہے۔

قارئین کے لیے ہدایات

اگر آپ کے عزیز جنوبی کوریا میں مقیم ہیں تو انہیں محتاط رہنے کا کہیں اور موسمیاتی محکمے کی اپڈیٹس پر نظر رکھیں۔ دن کے اوقات میں باہر نکلنے سے گریز کریں، زیادہ سے زیادہ پانی اور مشروبات کا استعمال کریں، اور ہلکے سوتی کپڑے پہنیں۔ بزرگ افراد کی صحت کا خصوصی خیال رکھیں۔

آگے کیا متوقع ہے

موسمی ماہرین اس بات کا جائزہ لے رہے ہیں کہ آیا یہ ہیٹ ڈوم اگست 2026 کے باقی دنوں میں بھی برقرار رہے گا یا نہیں۔ بین الاقوامی خبر رساں اداروں کی رپورٹس پر نظر رکھیں تاکہ کسی بھی موسمی تبدیلی یا بارش کی پیشگوئی سے آگاہی مل سکے۔ بجلی کے محکمے بھی روزانہ کی بنیاد پر گرڈ کی صورتحال کا جائزہ لے رہے ہیں۔