جنوبی وزیرستان کے مکینوں نے سیکیورٹی حکام سے فوری مداخلت کا مطالبہ کیا ہے تاکہ رات کے وقت ہونے والی مسلسل فائرنگ اور کواڈ کاپٹروں کی پروازوں کا سلسلہ روکا جا سکے۔ اس غیر یقینی صورتحال نے مقامی خاندانوں کو خوف کے سائے میں جینے پر مجبور کر دیا ہے اور روزمرہ کی زندگی شدید متاثر ہو رہی ہے۔
علاقے بھر میں رہنے والے خاندانوں کے لیے رات گئے فائرنگ کی آوازیں اور نگرانی کرنے والے آلات پریشانی کا باعث بن چکے ہیں۔ مقامی عمائدین کا کہنا ہے کہ اس تسلسل سے بچوں کی نیند خراب ہو رہی ہے اور ہر طرف تناؤ کا ماحول ہے۔ مارکیٹیں جلدی بند ہو جاتی ہیں اور اندھیرا ہوتے ہی نقل و حرکت نہ ہونے کے برابر رہ جاتی ہے۔
روزمرہ زندگی پر منفی اثرات
جنوبی وزیرستان میں اس سیکیورٹی صورتحال کی وجہ سے عام شہریوں کو شدید مشکلات کا سامنا ہے۔ وانا اور گردونواح کے علاقوں میں سورج غروب ہوتے ہی بازار ویران ہو جاتے ہیں۔ دکان دار مقررہ وقت سے پہلے ہی شٹر گرا دیتے ہیں تاکہ کسی بھی ناخوشگوار واقعے سے بچ سکیں۔ یومیہ اجرت پر کام کرنے والے مزدوروں اور ٹرانسپورٹرز کا روزگار بھی اس سے متاثر ہو رہا ہے۔
- رات گئے رہائشی علاقوں کے اوپر کواڈ کاپٹروں کی مسلسل پروازیں دیکھی جا رہی ہیں۔
- نامعلوم سمتوں سے فائرنگ کے تبادلے سے خواتین اور بچوں میں شدید خوف و ہراس پھیل جاتا ہے۔
- مقامی آبادی میں ذہنی تناؤ بڑھ رہا ہے اور رات کا سکون برباد ہو رہا ہے۔
- تجارتی سرگرمیاں متاثر ہونے سے غریب طبقے کا معاشی استحصال ہو رہا ہے۔
انتظامیہ سے مطالبات اور احتجاج
مقامی نمائندوں نے سول انتظامیہ اور سیکیورٹی فورسز سے بارہا اپیل کی ہے کہ وہ امن بحال کرنے کے لیے قدم اٹھائیں۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ قبائلی اضلاع میں بڑی قربانیوں کے بعد امن حاصل کیا گیا تھا، اس لیے عوام کو اس طرح کی فضائی نگرانی اور فائرنگ کی وجوہات سے آگاہ کیا جانا چاہیے۔ سول سایت کے ارکان کا ماننا ہے کہ اس قسم کے حالات سے ریاست اور عوام کے درمیان فاصلے بڑھتے ہیں۔
آپ کو کیا کرنا چاہیے
اگر آپ جنوبی وزیرستان کے متاثرہ علاقوں میں رہائش پذیر ہیں تو رات کے وقت غیر ضروری طور پر گھروں کی چھتوں یا کھڑکیوں کے قریب جانے سے گریز کریں۔ کسی بھی ہنگامی صورتحال کے لیے مقامی عمائدین اور ضلعی انتظامیہ کے نمبر اپنے پاس رکھیں۔ اپنے علاقے کے مسائل کو باضابطہ طور پر متعلقہ حکام تک پہنچانے کے لیے جرگہ یا مقامی کونسل کی مدد لیں۔
آگے کیا دیکھنا ہوگا
اس بات پر نظر رکھیں کہ ضلعی انتظامیہ یا سیکیورٹی کمانڈرز کی طرف سے کواڈ کاپٹروں اور فائرنگ کے واقعات پر کوئی باضابطہ بیان آتا ہے یا نہیں۔ وانا اور گردونواح میں ہونے والے ممکنہ جرگوں اور پریس کانفرنسوں پر توجہ رکھیں جہاں مقامی عمائدین اس معاملے کو بھرپور طریقے سے اٹھانے کی تیاری کر رہے ہیں۔
