اسپیس ایکس کے فالکن 9 راکٹ کا ایک پرانا اور غیر فعال حصہ مبینہ طور پر چاند سے جا ٹکرا ہے، جو کہ خلائی ملبے کے حوالے سے ایک غیر معمولی واقعہ ہے۔ اس راکٹ کا بالائی حصہ اپنے طے شدہ خلائی راستے سے ہٹنے کے کئی سال بعد چاند کی سطح سے جا لگا۔ ماہرین فلکیات طویل عرصے سے اس آوارہ وزنی حصے کی نقل و حرکت پر نظر رکھے ہوئے تھے۔ اگرچہ زمین کے ماحول میں خلائی کچرے کا داخل ہونا معمول کی بات ہے، لیکن گہرے خلا میں اس طرح کا حادثہ سائنسی حلقوں کی توجہ کا مرکز بنتا ہے۔

راکٹ کا حجم اور وزن

یہ گرنے والا خلائی ٹکڑا کوئی چھوٹا موٹا حصہ نہیں تھا۔ اس راکٹ کے بالائی حصے کا حجم تقریباً پانچ منزلہ عمارت کے برابر تھا جبکہ اس کا وزن تقریباً 4 ہزار کلوگرام بتایا جا رہا ہے۔ اتنی بڑی کمیت جب تیز رفتار کے ساتھ چاند کی سطح سے ٹکرائی تو اس نے وہاں ایک نیا گڑھا ضرور بنایا ہوگا۔ البتہ اس واقعے سے زمین پر رہنے والے عام انسانوں کی روزمرہ زندگی یا معمولات پر کوئی منفی اثر نہیں پڑتا۔

خلائی حفاظت کے لیے اہم سوالات

اس طرح کے واقعات خلا میں بڑھتے ہوئے بے کار سامان اور ملبے کے مسائل کو واضح کرتے ہیں۔ جب راکٹ زمین کی کشش ثقل سے باہر اپنے مشن مکمل کر لیتے ہیں، تو ان کے بالائی حصے اکثر بے قابو ہو کر خلا میں چکراتے رہتے ہیں۔ اب خلائی ایجنسیوں اور نجی کمپنیوں پر دباؤ بڑھ رہا ہے کہ وہ اپنے استعمال شدہ آلات کی سخت نگرانی کریں۔ جب کئی ٹن وزنی دھاتی ڈھانچہ برسوں تک خلا میں آوارہ گھومتا رہے تو اس کا انجام اندازوں پر ہی چھوڑنا پڑتا ہے۔

آگے کیا ہوگا؟

ماہرین فلکیات اب بڑی دوربینوں کے ذریعے اس ممکنہ ٹکر کے مقام کا جائزہ لے رہے ہیں تاکہ نئے بننے والے گڑھے اور وہاں موجود مٹی کے تودوں کا مشاہدہ کیا جا سکے۔ جیسے جیسے تجارتی بنیادوں پر خلائی پروازیں بڑھ رہی ہیں، توقع کی جا رہی ہے کہ بین الاقوامی ادارے کمپنیوں پر مزید سخت قوانین نافذ کریں گے۔ آپ کو خلائی تحقیقاتی اداروں کی آنے والی رپورٹس پر نظر رکھنی چاہیے تاکہ اس تصادم کے حتمی شواہد سامنے آ سکیں۔