سری لنکا میں موسلا دھار بارشوں کے باعث آنے والے شدید سیلاب اور تودے گرنے کے واقعات میں کم از کم سات افراد ہلاک ہو چکے ہیں، جس کے بعد حکام نے تعلیمی ادارے بند کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔ خراب موسم نے خاص طور پر ملک کے وسطی پہاڑی علاقوں کو اپنی لپیٹ میں لے لیا ہے، جو اپنے چائے کے باغات کے لیے دنیا بھر میں مشہور ہیں۔ ڈیزاسٹر مینجمنٹ حکام نے تصدیق کی ہے کہ پانی کی بڑھتی ہوئی سطح اور زمین کے کھسکنے کے خطرے کے پیش نظر روزمرہ زندگی شدید متاثر ہوئی ہے۔

پہاڑی علاقوں میں تباہی اور امدادی کارروائیاں

چائے پیدا کرنے والے پہاڑی اضلاع طوفانی بارشوں سے سب سے زیادہ متاثر ہوئے ہیں۔ مسلسل بارش کی وجہ سے پہاڑی تودے گرنے سے متعدد راستے بند ہو گئے ہیں اور کئی مکانات کو خطرہ لاحق ہو گیا ہے۔ ریسکیو ٹیمیں متاثرہ علاقوں میں امدادی کارروائیوں میں مصروف ہیں اور پھنسے ہوئے افراد کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا جا رہا ہے۔ ٹرانسپورٹ کے نظام میں تعطل کی وجہ سے کولمبو اور اندرونی علاقوں کے درمیان رابطہ عارضی طور پر منقطع ہو چکا ہے۔

مسافروں اور خاندانوں کے لیے ہدایات

اگر آپ یا آپ کا کوئی عزیز اس وقت ان علاقوں میں موجود ہے تو درج ذیل احتیاطی تدابیر اختیار کریں:

  • وسطی پہاڑی اضلاع کے غیر ضروری سفر سے گریز کریں۔
  • کولمبو میں پاکستانی ہائی کمیشن کے ساتھ رابطے میں رہیں اور کسی بھی ہنگامی صورتحال میں ان کی ہیلپ لائن سے رجوع کریں۔
  • پروازوں کے شیڈول میں تبدیلی کے امکان کے پیش نظر روانگی سے قبل ایئر لائنز سے تصدیق کر لیں۔

آئندہ کی صورتحال

محکمہ موسمیات صورتحال پر کڑی نظر رکھے ہوئے ہے اور حکام نے واضح کیا ہے کہ پانی کی سطح نیچے آنے اور صورتحال بہتر ہونے کے بعد ہی اسکولوں کو دوبارہ کھولنے کا حتمی فیصلہ کیا جائے گا۔ علاقائی خبروں پر نظر رکھیں تاکہ سفری پابندیوں اور امدادی سرگرمیوں سے بروقت باخبر رہ سکیں۔