پاکستان کی معیشت اب استحکام سے پائیدار ترقی کی طرف بڑھ رہی ہے۔ اسٹیٹ بینک آف پاکستان (ایس بی پی) کے گورنر جamil احمد نے بتایا ہے کہ ملک نے اپنی معاشی بحران کی بدترین کیفیت کو عبور کر لیا ہے اور اب جی ڈی پی میں مالی سال 2026-27 (جولائی 2026 تا جون 2027) میں 4.5 فیصد تک اضافے کا امکان ہے۔
12 جون 2026 کو کراچی میں ایک کاروباری فورم سے خطاب کرتے ہوئے، گورنر احمد نے کہا کہ ملک نے اپنی معاشی بحران کی بدترین کیفیت کو عبور کر لیا ہے۔ انھوں نے بتایا کہ اب افراط زر میں کمی آ رہی ہے اور روپے کی قدر امریکی ڈالر کے مقابلے میں مستحکم ہو گئی ہے۔ انھوں نے صنعتکاروں کو بتایا کہ اب معاشی پالیسی ترقی کی حمایت کرے گی لیکن افراط زر کی توقعات کو کنٹرول رکھنے کے لیے بھی اقدامات جاری رہیں گے۔
- جی ڈی پی ترقی کا ہدف: مالی سال 2027 میں 4.5 فیصد
- افراط زر: جون 2026 کے آخر تک 12 فیصد سے نیچے آنے کا امکان
- روپے کی استحکام: مارچ 2026 سے روپے کی قدر 285-290 روپے فی ڈالر کے درمیان مستحکم
- پالیسی ریٹ: اپریل 2026 سے 14 فیصد پر برقرار، جولائی 2024 سے اب تک 600 بیس پوائنٹس کی کمی
اب استحکام کیوں ممکن ہوا ہے؟
ایس بی پی کی امیدیں تین بنیادی عوامل پر مبنی ہیں: افراط زر میں کمی، مستحکم کرنسی اور بیرونی شعبے میں بہتری۔ 2023 کے مئی میں افراط زر 38 فیصد تک پہنچنے کے بعد اب یہ مئی 2026 میں 13.4 فیصد تک گر گیا ہے۔ یہ کمی tighter monetary policy، عالمی اشیاء کی قیمتوں میں کمی اور پچھلے سال کے اعلیٰ بنیادوں کے اثرات کی وجہ سے ہوئی ہے۔
روپے کی قدر، جو جنوری 2023 سے فروری 2024 کے درمیان تقریباً 40 فیصد گر گئی تھی، اب مارچ 2026 سے 285-290 روپے فی ڈالر کے درمیان مستحکم ہے۔ غیر ملکی زر مبادلہ کے ذخائر بھی بڑھ کر 6 جون 2026 تک 14.2 ارب ڈالر ہو گئے ہیں، جو فروری 2024 میں 3.1 ارب ڈالر کے نچلے ترین سطح سے بہت بہتر ہیں۔ یہ بہتری آئی ایم ایف کی ادائیگیوں اور بہتر ترسیلات زر کی وجہ سے ہوئی ہے۔
گورنر احمد نے بتایا کہ درآمدات میں کمی—جو مالی سال 2026 کے پہلے 11 ماہ میں سال بہ سال 22 فیصد گر کر 42 ارب ڈالر رہ گئی ہیں—نےCurrent account پر دباؤ کو کم کیا ہے۔ اسی دوران برآمدات میں 8 فیصد اضافہ ہوا ہے اور یہ اب 28 ارب ڈالر تک پہنچ گئی ہیں، جس کی بنیادی وجہ ٹیکسٹائل اور خوراک کی مصنوعات ہیں۔
آپ کے لیے کیا مطلب ہے؟
عام پاکستانیوں کے لیے، استحکام کی طرف یہ سفر ضروری اشیاء کی قیمتوں میں کمی اور مستحکم کاروباری ماحول کا باعث بنے گا۔ ایس بی پی کا اندازہ ہے کہ خوراک کے افراط زر، جو فی الحال 16.5 فیصد ہے، میں مزید کمی آئے گی کیونکہ گندم اور چینی کی فراہمی پچھلے سال کی قلت کے بعد مستحکم ہو رہی ہے۔
- قرض لینے والے: اگر ایس بی پی 2026 کے دوسرے نصف میں شرح سود میں مزید کمی کرتی ہے تو گھریلو اور کار کے قرضوں کی شرحیں نیچے آ سکتی ہیں۔
- بچت کرنے والے: چھ ماہ کی term deposit پر اب شرح سود 18-20 فیصد کے ارد گرد ہے، جو افراط زر میں کمی کے ساتھ کم ہو سکتی ہے۔
- کاروباری افراد: درآمد کرنے والوں کو hedging کی کم لاگت کا فائدہ ہو گا جبکہ برآمد کرنے والوں کو روپے کی مسابقتی شرح کی وجہ سے بہتر منافع ہو سکتا ہے۔
آگے کیا خطرات ہیں؟
ایس بی پی کا پیش گوئی کا دارومدار کئی کمزور مفروضوں پر ہے۔ عالمی تیل کی قیمتوں میں اچانک اضافہ، جو مئی 2026 میں اوسطاً 82 ڈالر فی بیرل تھی، مشرق وسطیٰ میں کشیدگی کی صورت میں دوبارہ بڑھ سکتی ہے۔ ایسا ہونے سے افراط زر دوبارہ بھڑک سکتا ہے اور روپے پر دباؤ پڑ سکتا ہے۔
ملکی سطح پر، آئندہ وفاقی بجٹ 2027 جو 12 جون 2026 کو پیش کیا جائے گا، مالیاتیDiscipline کا امتحان ہو گا۔ حکومت کا ہدف جی ڈی پی کے 6.5 فیصد تک fiscal deficit کو کم کرنا ہے، جو مالی سال 2026 میں 7.4 فیصد تھا۔ لیکن آمدن میں کمی اور قرضوں کی ادائیگی کے اخراجات بڑے چیلنج ہیں۔
گورنر احمد نے خبردار کیا کہ معاشی پالیسی تنہا کام نہیں کر سکتی۔ ساختہ اصلاحات—ٹیکس جمع کرنے کی کارکردگی، توانائی کے شعبے میں بہتری اور برآمدات میں تنوع—ضروری ہیں تاکہ 2027 سے آگے ترقی کو برقرار رکھا جا سکے۔
آگے کیا دیکھنا ہے؟
- 12 جون 2026: وفاقی بجٹ 2027 کا اعلان (www.finance.gov.pk)
- 20 جون 2026: اگلی ایس بی پی پالیسی بیان
- جولائی 2026: سہ ماہی افراط زر کے اعداد و شمار
- ستمبر 2026: آئی ایم ایف کے 3 ارب ڈالر کے Stand-By Arrangement کے تحت دوسری جائزہ
اصل حقیقت
پاکستان کی معیشت اب ڈوبنے کے قریب نہیں ہے، لیکن پائیدار ترقی کا راستہ تنگ ہے۔ اگلے 12 ماہ یہ دکھائیں گے کہ افراط زر میں کمی اور روپے کی استحکام اصل میں ایک پائیدار بحالی کا آغاز ہے یا پھر طوفان سے پہلے کی خاموشی ہے۔
فی الحال، اشارے محتاط طور پر مثبت ہیں۔ گورنر احمد کا پیغام کاروباری افراد اور گھرانوں کے لیے واضح ہے: ترقی کے لیے منصوبہ بنائیں، لیکن حیرتوں کے لیے تیار رہیں۔
