اسٹینفورڈ یونیورسٹی کے سائنسدانوں نے حال ہی میں مصنوعی ذہانت (AI) کے ایک ماڈل کو لاکھوں ڈی این اے سیکونسز پر تربیت دے کر 16 نئے وائرس تخلیق کیے ہیں۔ یہ پیشرفت بائیو ٹیکنالوجی اور جینیاتی تحقیق میں ایک سنگ میل کی حیثیت رکھتی ہے، جہاں مشین لرننگ الگورتھمز نے ایسے وائرل ڈھانچے تیار کیے ہیں جو قدرتی طور پر موجود نہیں تھے۔

مصنوعی ذہانت کے ذریعے وائرل ڈیزائن کا عمل

اس تحقیق کا بنیادی مقصد یہ سمجھنا ہے کہ مصنوعی ذہانت کس طرح زندگی کے بنیادی اجزاء (ڈی این اے) کو ترتیب دے سکتی ہے۔ اے آئی ماڈل نے جینیاتی ڈیٹا کے وسیع ذخائر کا تجزیہ کر کے وائرل اسمبلی کے قوانین کو سیکھا۔ اس کے بعد، ماڈل کو نئے اور مصنوعی ڈی این اے سیکونسز بنانے کی ہدایت کی گئی۔ یہ تحقیق ثابت کرتی ہے کہ مشینیں اب حیاتیاتی بلیو پرنٹس کو حیران کن رفتار سے تخلیق کرنے کی صلاحیت رکھتی ہیں۔

عالمی صحت پر اثرات

اگرچہ اس تحقیق کا مقصد ویکسین کی تیاری اور جین تھراپی کو بہتر بنانا ہے، لیکن اس سے بائیو سیکیورٹی اور عوامی تحفظ کے حوالے سے سنگین خدشات بھی پیدا ہوتے ہیں۔ اگر ایک ماڈل بیماریوں کے علاج کے لیے فائدہ مند وائرس بنا سکتا ہے، تو نظریاتی طور پر اسے نقصان دہ پیتھوجینز بنانے کے لیے بھی استعمال کیا جا سکتا ہے۔ پاکستان میں بائیو ٹیکنالوجی اور سائنسی تحقیق سے وابستہ افراد کے لیے یہ ضروری ہے کہ وہ ان ٹولز کے اخلاقی استعمال کے لیے سخت ضوابط وضع کریں۔

2026 میں کیا توقع رکھیں

جیسے جیسے یہ ٹیکنالوجی تجربہ گاہوں سے باہر نکل کر تحقیقی مراکز تک پہنچے گی، عالمی سطح پر سخت نگرانی متوقع ہے۔ بین الاقوامی ادارہ صحت (WHO) کی جانب سے ایسی تحقیق کے لیے نئے حفاظتی پروٹوکولز جاری کیے جا سکتے ہیں۔ پاکستان میں، ہائر ایجوکیشن کمیشن (HEC) اور مقامی بائیو ٹیکنالوجی کے شعبوں کو ان عالمی رجحانات کے مطابق اپنی بائیو سیفٹی پالیسیوں کو اپ ڈیٹ کرنے کی ضرورت ہوگی۔

خود کو باخبر کیسے رکھیں

اگر آپ ٹیکنالوجی اور حیاتیات کے امتزاج میں دلچسپی رکھتے ہیں، تو یونیورسٹی کے آفیشل پورٹلز اور سائنسی جرائد پر نظر رکھیں۔ چونکہ یہ شعبہ تیزی سے بدل رہا ہے، اس لیے سوشل میڈیا پر پھیلی افواہوں کے بجائے مستند ذرائع پر انحصار کریں۔ اے آئی اور بائیو ٹیکنالوجی کا مستقبل اب کمپیوٹر اور جینیات کے ملاپ سے جڑا ہوا ہے، جو آنے والے وقت میں طب کے شعبے میں انقلاب برپا کر سکتا ہے۔