ایران کے نائب وزیر خارجہ کاظم غریب آبادی نے ہفتے کے روز دوٹوک الفاظ میں واضح کیا ہے کہ آبنائے ہرمز پر ایرانی کنٹرول برقرار رہے گا اور یہ سمندری گزرگاہ ہمیشہ سے ایرانی رہی ہے۔
یہ بیان اس وقت سامنے آیا جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ وہ بہت جلد ہرمز کے آبی راستے کو امریکی سرزمین کا حصہ قرار دے دیں گے۔ تہران نے اس دعوے کو یکسر مسترد کرتے ہوئے واضح کیا کہ اس اہم بین الاقوامی گزرگاہ کو کھولنے یا بند کرنے کا فیصلہ صرف اور صرف ایران کی مرضی سے کیا جائے گا۔
عالمی توانائی کی مارکیٹ پر اثرات
پاکستان جیسے ممالک کے لیے، جو اپنی توانائی کی ضروریات کا بڑا حصہ درآمدات پر پورا کرتے ہیں، مشرق وسطیٰ کی اس کشیدگی پر گہری نظر رکھنا ضروری ہے۔ خلیج فارس کے امور میں کسی بھی قسم کی ہلچل عالمی سطح پر خام تیل کی قیمتوں کو متاثر کرتی ہے، جس کا براہ راست اثر پاکستان کے درآمدی بل اور مقامی ایندھن کی قیمتوں پر پڑتا ہے۔
ایرانی حکام کا موقف ہے کہ خطے کی سلامتی اور آبی گزرگاہوں کا انتظام مقامی قوتوں کی ذمہ داری ہے اور کسی بھی بیرونی طاقت کو آبنائے پر تسلط قائم کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
آگے کیا ہوگا؟
عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں اور سفارتی بیانات پر کڑی نظر رکھی جائے۔ یہ دیکھنا باقی ہے کہ آیا واشنگتن اس بیان پر کوئی عملی قدم اٹھاتا ہے یا تنازع صرف بیانات کی حد تک محدود رہتا ہے۔
قارئین کے لیے ہدایات
اگر آپ معاشی امور یا عالمی توانائی کی منڈیوں سے وابستہ ہیں، تو سیاسی بیانات کے ساتھ ساتھ روزانہ کی بنیاد پر تیل کی عالمی قیمتوں کے رجحانات کا جائزہ لیتے رہیں۔
