ایک طاقتور ایل نینو موسمیاتی رجحان اگلے سال کے آخر تک دنیا بھر میں مزید 49 ملین افراد کو شدید غذائی قلت اور بھوک کی طرف دھکیل سکتا ہے، یہ بات ورلڈ فوڈ پروگرام (WFP) نے اپنی ایک نئی تفصیلی رپورٹ میں کہی ہے۔ اس شدید موسمیاتی مظہر کے انتہائی طاقتور شکل اختیار کرنے کے امکانات 81 فیصد ہیں، کیونکہ سمندر کی سطح کا درجہ حرارت 1982ء کے بعد سے اپنی بلند ترین سطح پر پہنچ چکا ہے۔ جنوبی ایشیا اور ترقی پذیر دنیا کے زرعی ممالک کے لیے یہ بڑھتی ہوئی موسمیاتی تبدیلی فصلوں کی پیداوار، دیہی معاش اور خوراک کی استطاعت کے لیے براہ راست خطرہ بن رہی ہے۔
ایل نینو کا خطرہ اور بڑھتی ہوئی عالمی غذائی قلت
اقوام متحدہ کے ادارے کی طرف سے جاری کردہ تشویشناک تخمینے اس بات کو اجاگر کرتے ہیں کہ موسمیاتی شدت کتنی تیزی سے بڑے پیمانے پر غذائی بحران کا سبب بن سکتی ہے۔ استوائی بحرالکاہل میں سمندر کی سطح کا درجہ حرارت اہم حدوں کو عبور کر چکا ہے، جس پر ماہرین موسمیات کا کہنا ہے کہ یہ چکر تاریخی شدت کو بھی پیچھے چھوڑ سکتا ہے۔ جب یہ پانی نمایاں طور پر گرم ہوتے ہیں تو وہ عالمی فضائی گردش کو تبدیل کر دیتے ہیں، جس سے روایتی زرعی علاقوں میں شدید خشک سالی اور دیگر مقامات پر تباہ کن سیلاب آتے ہیں۔ جیسے جیسے بین الاقوامی ادارے اگلے سال کے آخر تک ان بدلتے ہوئے موسمیاتی اشاریوں کا جائزہ لے رہے ہیں، کمزور طبقات کو فصلوں میں کمی، مہنگی خوراک اور محدود انسانی امداد کے دباؤ کا سامنا ہے۔
- امکان: ایک بہت مضبوط ایل نینو ایونٹ کے وقوع پذیر ہونے کا 81 فیصد چوکساں امکان
- متاثرہ آبادی: تقریباً 49 ملین اضافی افراد کو شدید غذائی عدم تحفظ کا خطرہ
- ٹائم لائن: اثرات اگلے سال کے آخر تک مزید شدت اختیار کرنے کی توقع
- بنیادی پیمانہ: سمندر کی سطح کا درجہ حرارت 1982ء کے بعد کی بلند ترین سطح پر
پاکستان اور علاقائی غذائی تحفظ پر اثرات
اگرچہ صنعتی ممالک موسمیاتی تبدیلی کے اثرات کو کم کرنے پر بحث کر رہے ہیں، لیکن پاکستان جیسے ممالک میں عام گھرانے عالمی اجناس کی منڈیوں کے اتار چڑھاو اور مقامی موسمیاتی تبدیلیوں کے جھٹکے براہ راست برداشت کرتے ہیں۔ پاکستان کا زرعی شعبہ بحرالکاہل کے چکروں سے جڑے مانسون کے بدلتے ہوئے پیٹرن اور درجہ حرارت کی تبدیلیوں کے لیے انتہائی حساس ہے۔ جب دنیا کے بڑے اناج پیدا کرنے والے خطوں میں فصلیں خراب ہونے کی وجہ سے عالمی غذائی سپلائی چین سکڑتی ہے تو آٹا، گندم اور کوکنگ آئل جیسی بنیادی اشیاء کی مقامی قیمتوں میں اضافہ ہو جاتا ہے۔ اگر آپ اپنے گھر کا بجٹ چلاتے ہیں یا زراعت سے وابستہ ہیں، تو یہ بین الاقوامی موسمیاتی تبدیلیاں براہ راست آپ کے ماہانہ خرچ اور قوت خرید پر اثر انداز ہوتی ہیں۔
آپ کو کیا کرنا چاہیے اور آگے کیا دیکھنا ہے
پالیسی سازوں، زرعی محققین اور مقامی کسانوں کو ان بین الاقوامی وارننگز کو دور دراز کی پیشگوئیوں کے بجائے ایک فوری انتباہی نظام کے طور پر دیکھنا چاہیے۔ غذائی تحفظ کے ماہرین کا مشورہ ہے کہ مقامی مارکیٹوں میں موسمیاتی جھٹکے لگنے سے پہلے ملکی غلے کے ذخائر کو مضبوط بنایا جائے، پانی کے انتظام کے بنیادی ڈھانچے کو بہتر کیا جائے اور موسمیاتی تبدیلیوں کو برداشت کرنے والی فصلوں کے بیج اپنائے جائیں۔ آنے والے مہینو ں میں پاکستان محکمہ موسمیات اور عالمی موسمیاتی مانیٹرنگ بورڈز کی اپڈیٹس پر گہری نظر رکھیں تاکہ یہ معلوم ہو سکے کہ سمندر کی سطح کے درجہ حرارت میں تبدیلی کیسے ہو رہی ہے اور کیا علاقائی مانسون کا نظام ان شدید ایل نینو پیشگوئیوں سے مطابقت رکھتا ہے۔
