لاہور کے علاقے ڈی ایچ اے (DHA) میں قائم ایک نجی یونیورسٹی کے ہاسٹل سے دوسرے سال کے طالب علم کی لاش برآمد ہوئی ہے، جس کے بعد پولیس نے واقعے کی تحقیقات شروع کر دی ہیں۔
لاہور کی نجی یونیورسٹی کے ہاسٹل میں طالب علم مردہ پایا گیا
واقعہ اس وقت سامنے آیا جب ہاسٹل انتظامیہ کو طالب علم کے کمرے سے کوئی جواب موصول نہ ہوا۔ دروازہ توڑ کر دیکھا گیا تو طالب علم کمرے میں مردہ حالت میں پایا گیا۔ اطلاع ملتے ہی پولیس کی نفری موقع پر پہنچ گئی اور شواہد اکٹھے کرنا شروع کر دیے۔
ابتدائی طبی رپورٹ اور پولیس کے ذرائع کے مطابق، طالب علم کی موت کی ممکنہ وجہ کارڈیک اریسٹ (دل کا دورہ) بتائی جا رہی ہے۔ تاہم، حتمی وجہ کا تعین پوسٹ مارٹم رپورٹ کے بعد ہی ہو سکے گا، جس کے لیے لاش کو ہسپتال منتقل کر دیا گیا ہے۔ یونیورسٹی انتظامیہ کا کہنا ہے کہ وہ پولیس کے ساتھ مکمل تعاون کر رہے ہیں تاکہ حقائق سامنے آ سکیں۔
طلباء کی صحت اور سکیورٹی کے تحفظات
اس افسوسناک واقعے نے لاہور کے نجی تعلیمی اداروں میں رہائش پذیر طلباء کی صحت اور سکیورٹی سے متعلق سوالات کو جنم دیا ہے۔ ہاسٹل میں مقیم طلباء کے لیے طبی نگرانی اور ہنگامی طبی امداد کی فراہمی ایک اہم ضرورت ہے۔
- موجودہ صورتحال: لاش کو پوسٹ مارٹم کے لیے ہسپتال منتقل کر دیا گیا ہے۔
- انتظامی اقدام: یونیورسٹی نے پولیس تحقیقات کے ساتھ ساتھ اپنے طور پر بھی واقعے کی چھان بین شروع کر دی ہے۔
- ہدایات: والدین کو مشورہ دیا گیا ہے کہ وہ اپنے بچوں کے ساتھ رابطے میں رہیں اور ہاسٹل انتظامیہ کے ساتھ ہنگامی رابطے کے نمبرز اپ ڈیٹ رکھیں۔
آگے کیا ہوگا؟
آنے والے دنوں میں پولیس کی جانب سے پوسٹ مارٹم اور ٹوکسیکولوجی رپورٹ جاری کی جائے گی، جس سے موت کی حتمی وجوہات واضح ہو سکیں گی۔ فی الحال یونیورسٹی انتظامیہ کی جانب سے مزید کوئی بیان جاری نہیں کیا گیا ہے۔ اگر آپ یا آپ کے جاننے والے کسی یونیورسٹی ہاسٹل میں رہائش پذیر ہیں، تو یقینی بنائیں کہ یونیورسٹی کے میڈیکل سینٹر اور ایمرجنسی پروٹوکولز سے مکمل آگاہی موجود ہو تاکہ کسی بھی ہنگامی صورتحال میں بروقت مدد حاصل کی جا سکے۔
