بھارت کی ریاست مہاراشٹر کے ضلع امراوتی میں واقع ایک سرکاری رہائشی اسکول کے ہاسٹل میں پراسرار سرگرمیوں کی افواہوں کے بعد سینکڑوں طلبا نے ہاسٹل چھوڑ دیا ہے۔ طلبا کا دعویٰ ہے کہ انہیں رات کے وقت ہاسٹل کے کوریڈورز میں پراسرار ہنسی اور پازیب کی جھنکار سنائی دیتی ہے۔

ہاسٹل میں پھیلنے والا خوف

اس hostel panic یا ہاسٹل میں پھیلنے والے خوف کا آغاز اس وقت ہوا جب چند طلبا نے رات کے اوقات میں غیر معمولی آوازیں سننے کی شکایت کی۔ دیکھتے ہی دیکھتے یہ افواہیں پورے ہاسٹل میں پھیل گئیں، جس کے نتیجے میں طلبا کی بڑی تعداد نے اپنی حفاظت کو یقینی بنانے کے لیے ہاسٹل سے فرار ہونے کو ترجیح دی۔ انتظامیہ فی الحال اس صورتحال پر قابو پانے کی کوشش کر رہی ہے، تاہم طلبا میں خوف کا عنصر بدستور موجود ہے۔

افواہیں اتنی تیزی سے کیوں پھیلیں؟

رہائشی ہاسٹلز میں جہاں طلبا ایک ساتھ رہتے ہیں، وہاں کسی بھی قسم کا خوف بہت تیزی سے پھیلتا ہے۔ پازیب کی آواز کا آنا مقامی لوک کہانیوں کا ایک عام حصہ ہے، جس نے طلبا کے ذہنوں میں مزید خوف پیدا کیا۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ یہ ایک قسم کی اجتماعی نفسیاتی کیفیت ہو سکتی ہے، جہاں ایک فرد کی گھبراہٹ دوسروں میں منتقل ہو جاتی ہے۔ اسکول انتظامیہ اب اس معاملے کی تحقیقات کر رہی ہے تاکہ ان آوازوں کی حقیقت کا تعین کیا جا سکے۔

اب کیا ہوگا؟

ضلعی انتظامیہ اس معاملے کی چھان بین کر رہی ہے کہ آیا یہ آوازیں کسی تکنیکی خرابی، عمارت کے ڈھانچے یا کسی بیرونی شرارت کا نتیجہ ہیں۔ فی الحال ہاسٹل میں سیکیورٹی کے انتظامات سخت کر دیے گئے ہیں اور طلبا کو کونسلنگ فراہم کی جا رہی ہے۔ والدین کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ افواہوں پر کان دھرنے کے بجائے اسکول انتظامیہ سے باقاعدہ رابطہ رکھیں۔

آپ کو کیا کرنا چاہیے؟

اگر آپ ایسی کسی صورتحال کا سامنا کر رہے ہیں تو درج ذیل اقدامات ضروری ہیں:
- سوشل میڈیا پر غیر مصدقہ خبریں پھیلانے سے گریز کریں۔
- کسی بھی مشکوک سرگرمی یا سیکیورٹی خدشات کی اطلاع فوری طور پر وارڈن یا متعلقہ حکام کو دیں۔
- افواہوں کے بجائے اسکول انتظامیہ کے آفیشل بیانات پر انحصار کریں۔