گھٹن کا شکار سری نگر بھارتی غیر قانونی زیر تسلط جموں و کشمیر میں جاری انسانی حقوق کے بحران کی عکاسی کرتا ہے جب یوم استحصال منایا جا رہا ہے۔ پاکستان اور آزاد جموں و کشمیر میں بھرپور طریقے سے منایا جانے والا یوم استحصال جنوبی ایشیا کی تاریخ میں ایک سیاہ دن کی حیثیت رکھتا ہے، جو نئی دہلی کی جانب سے 5 اگست 2019 کو کیے گئے یکطرفہ اور غیر قانونی اقدامات کو بے نقاب کرتا ہے۔

وادی میں رہنے والے لاکھوں افراد کے لیے معمول کی زندگی اب بھی شدید عسکری شکنجے میں جکڑی ہوئی ہے۔ جگہ جگہ ناکے، خار دار تاریں اور مواصلات پر سخت پابندیاں مقامی معیشت کو مفلوج اور بنیادی آزادیوں کو سلب کر رہی ہیں۔ سیاسی رہنما غیر قانونی طور پر قید ہیں اور گزشتہ برسوں کے دوران شہری آزادیوں کو منظم طریقے سے ختم کیا گیا ہے۔ اسلام آباد اور مظفر آباد کے حکام نے متنازع علاقے میں آبادیاتی تبدیلی کی کوششوں کے خلاف عالمی فورمز پر مسلسل آواز اٹھائی ہے۔

یوم استحصال کی تلخ حقیقت

5 اگست 2019 کو عائد کردہ سخت پابندیوں نے بھارتی آئین کے آرٹیکل 370 اور 335 کے تحت خطے کی خصوصی خودمختار حیثیت کو ختم کر دیا۔ تب سے یوم استحصال عالمی سطح پر کیے گئے وعدوں کی خلاف ورزی اور اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں کو روندنے کی سالانہ یاد دہانی کے طور پر منایا جا رہا ہے۔ انسانی حقوق کی تنظیمیں مقبوضہ وادی میں من مانی گرفتاریوں، میڈیا پر سنسرشپ اور اختلاف رائے کو دبانے کے واقعات کو مسلسل دستاویزی شکل دے رہی ہیں۔

سری نگر کے عام شہریوں کو بار بار لگنے والے کرفیو، سیاحت کے زوال اور تجارتی رکاوٹوں کی وجہ سے شدید اقتصادی مشکلات کا سامنا ہے۔ مقامی کاروباری حضرات، کاریگر اور طلباء اس طویل سرکاری جبر کا سب سے زیادہ خمیازہ بھگت رہے ہیں۔ عالمی برادری اور انسانی حقوق کے نگراں اداروں پر یہ دباؤ بڑھ رہا ہے کہ وہ خطے تک بلا رکاوٹ رسائی کا مطالبہ کریں تاکہ زمینی حقائق کا آزادانہ جائزہ لیا جا سکے۔

قارئین کے لیے اہم معلومات

اگر آپ علاقائی پیش رفت پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں، تو اس کے وسیع تر جغرافیائی سیاسی مضمرات کا جائزہ لینا ضروری ہے۔

  • اسلام آباد، لاہور، کراچی اور پشاور سمیت پاکستان کے بڑے شہروں میں منعقد ہونے والی یکجہتی کی تقریبات میں شرکت کریں۔
  • وزارت خارجہ کی ویب سائٹ mofa.gov.pk کے ذریعے جاری کردہ سرکاری بیانات اور انسانی حقوق کی رپورٹس تک رسائی حاصل کریں۔
  • وادی کی انسانی صورتحال سے متعلق بین الاقوامی پارلیمانی مباحثوں اور قراردادوں پر نظر رکھیں۔

آگے کیا دیکھنا ہے

اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی اور او آئی سی میں پاکستان کی سفارتی کوششیں انتہائی اہمیت کی حامل ہیں۔ جنوبی ایشیا کے جاری سیاسی تعطل کے حوالے سے آنے والی سفارتی قراردادوں، بین الاقوامی انسانی حقوق کے ڈوزیئرز اور عالمی دارالحکومتوں کے بیانات پر نظر رکھیں۔