صوفی گروپ آف کمپنیز نے لاہور میں باضابطہ طور پر اپنی "گرین پاکستان کلین پاکستان مہم" کا آغاز کر دیا ہے جس کا مقصد کارپوریٹ ماحولیاتی ذمہ داری کو فروغ دینا ہے۔ اس اقدام کا آغاز ایک لاکھ درخت لگانے کے بلند و بانگ ہدف کے ساتھ کیا گیا ہے تاکہ ملک میں بڑھتی ہوئی آلودگی اور ماحولیاتی تبدیلیوں کے اثرات کا مقابلہ کیا جا سکے۔
یہ ماحولیاتی اقدام ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب لاہور سمیت ملک کے بڑے شہری مراکز شدید اسموگ اور گھٹتے ہوئے جنگلات کے مسائل کا شکار ہیں۔ اپنی کارپوریٹ سوشل رسپانسيبلیٹی کے تحت، صوفی گروپ نے پنجاب اور ملک بھر کے دیگر صنعتی اداروں کے لیے ایک بہترین مثال قائم کی ہے۔
لاہور میں ماحولیاتی پائیداری کا فروغ
گرین پاکستان کلین پاکستان مہم صرف پودے تقسیم کرنے تک محدود نہیں ہے بلکہ اس میں عملی اقدامات شامل ہیں۔ ماحولیاتی ماہرین طویل عرصے سے اس بات پر زور دے رہے ہیں کہ صنعتی ادارے اپنے کاربن کے اخراج کو کم کرنے کے لیے ٹھوس اقدامات کریں۔ صوفی گروپ کی قیادت کے مطابق، اس مہم کے دوران لگائے جانے والے ایک لاکھ درختوں کی خصوصی نگرانی کی جائے گی تاکہ ان کی نشوونما کو یقینی بنایا جا سکے۔
ماہرین کا ماننا ہے کہ پاکستان میں شجرکاری مہمات کا سب سے بڑا مسئلہ پودوں کی دیکھ بھال کا فقدان ہوتا ہے، لہذا لگائے گئے پودوں کی بقا کو یقینی بنانا اس مہم کی اصل کامیابی ہوگی۔
کارپوریٹ سماجی ذمہ داری کی اہمیت
پاکستان میں کارپوریٹ سوشل رسپانسيبلیٹی کی تاریخ زیادہ تر تعلیم اور صحت تک محدود رہی ہے، لیکن ماحولیاتی انحطاط نے کاروباری اداروں کو موسمیاتی اقدامات کی طرف راغب کیا ہے۔ اب بڑے صنعتی گروپس قابل تجدید توانائی، صاف ٹیکنالوجی اور بڑے پیمانے پر شجرکاری کے لیے وسائل مختص کر رہے ہیں۔
اس کے ساتھ ساتھ صنعتی شعبے میں صاف توانائی کے رجحانات اور مقامی سطح پر پیداواری صلاحیتوں کو بڑھانے کی کوششیں بھی جاری ہیں، جو کہ مجموعی طور پر ایک پائیدار معاشی ماحولیاتی نظام کی تشکیل میں مددگار ثابت ہو رہی ہیں۔
قارئین کے لیے ہدایات
اگر آپ لاہور یا اس کے گردونواح میں رہائش پذیر ہیں، تو آپ اپنے محلے میں شجرکاری مہمات میں حصہ لے کر اس کا حصہ بن سکتے ہیں۔ حکومت اور نجی ادارے شجرکاری کے موسم میں مفت پودے بھی فراہم کرتے ہیں جنہیں آپ اپنے گھر یا دفتر کے باہر لگا سکتے ہیں۔ اپنے اردگرد کے ماحول کو سرسبز رکھنے کے لیے مقامی سوسائیتھیز میں پودے لگانے کی ترغیب دیں۔
