حکومت نے اعلیٰ عدلیہ کے ججوں کی تنخواہوں اور مراعات میں نمایاں اضافہ کر دیا ہے۔ اس فیصلے کے تحت سپریم کورٹ کے ججوں کی تنخواہیں وفاقی آئینی عدالت کے ججوں کے مساوی کر دی گئی ہیں۔ صدر مملکت آصف علی زرداری نے اس حوالے سے سمری کی باضابطہ منظوری دے دی ہے۔
تنخواہوں میں اضافے کا اطلاق کب ہوگا؟
اعلیٰ عدلیہ کے ججز کی تنخواہوں اور مراعات میں اس بڑے اضافے کا اطلاق 10 دسمبر 2025 سے ہوگا۔ یہ اقدام عدالتی ڈھانچے میں ہم آہنگی لانے اور سپریم کورٹ اور وفاقی آئینی عدالت کے ججوں کے مالیاتی پیکجز کو یکساں بنانے کے لیے کیا گیا ہے۔
عدالتی امور پر اثرات
یہ فیصلہ ملکی عدالتی نظام میں انتظامی اور مالیاتی اصلاحات کا حصہ ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اس اقدام سے اعلیٰ عدلیہ کے ججوں کے مالیاتی فوائد میں توازن پیدا ہوگا اور یہ عدالتی کارکردگی اور شفافیت کو یقینی بنانے کے حکومتی عزم کا حصہ ہے۔
قارئین کے لیے اہم معلومات
- وزارت قانون و انصاف کی جانب سے باضابطہ نوٹیفکیشن جاری کیا جانا باقی ہے جس میں مراعات کی مکمل تفصیلات شامل ہوں گی۔
- اس اضافے کے بعد عدلیہ کے بجٹ پر پڑنے والے اثرات کا جائزہ آئندہ مالی سال کے دوران لیا جائے گا۔
- مزید تفصیلات کے لیے سپریم کورٹ آف پاکستان کی آفیشل ویب سائٹ www.supremecourt.gov.pk ملاحظہ کی جا سکتی ہے۔
جیسے جیسے 10 دسمبر 2025 کی تاریخ قریب آئے گی، حکومت کی جانب سے تنخواہوں کے سٹرکچر میں مزید وضاحتیں متوقع ہیں۔ یہ پیش رفت ملکی عدالتی تاریخ میں ایک اہم انتظامی تبدیلی کے طور پر دیکھی جا رہی ہے۔
