سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن (SCBA) نے باضابطہ طور پر پاکستان میں نئے صوبے بنانے کی تجویز کی حمایت کر دی ہے اور اسے ملکی گورننس کو بہتر بنانے کے لیے ایک ناگزیر قدم قرار دیا ہے۔ یہ حمایت وزیر داخلہ سید محسن نقوی کی جانب سے حال ہی میں دی گئی اس تجویز کے بعد سامنے آئی ہے، جس میں انہوں نے انتظامی بہتری کے لیے مزید صوبوں کے قیام پر زور دیا تھا۔

نئے صوبوں کے قیام کی حمایت کیوں؟

جمعہ کے روز جاری کیے گئے بیان میں وکلاء کی اعلیٰ ترین تنظیم نے موقف اختیار کیا کہ موجودہ انتظامی ڈھانچہ عوامی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے ناکافی ثابت ہو رہا ہے۔ ایس سی بی اے کا ماننا ہے کہ انتظامی حدود کی تنظیم نو سے وسائل کی منصفانہ تقسیم اور عدالتی و انتظامی نگرانی کو بہتر بنایا جا سکتا ہے۔ وکلاء برادری کا یہ اقدام اس بحث کو سیاسی جوڑ توڑ سے نکال کر انتظامی کارکردگی کی جانب لانے کی ایک کوشش کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔

حکومتی تجویز کا پس منظر

وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی کے بیانات نے ایک پرانی بحث کو دوبارہ زندہ کر دیا ہے۔ اگرچہ ابھی تک پارلیمنٹ میں کوئی باقاعدہ مسودہ پیش نہیں کیا گیا، لیکن حکومتی حلقوں کا کہنا ہے کہ بڑے انتظامی یونٹس کی وجہ سے ترقیاتی کاموں اور سہولیات کی فراہمی میں رکاوٹیں پیدا ہوتی ہیں۔ تجویز کے حامیوں کا خیال ہے کہ چھوٹے انتظامی یونٹس سے دور دراز کے علاقوں میں صحت، تعلیم اور بنیادی ڈھانچے کی صورتحال بہتر ہو سکتی ہے۔

آگے کیا ہونے کی توقع ہے؟

آنے والے دنوں میں درج ذیل نکات پر نظر رکھنا ضروری ہوگا:

  • قانون سازی: پارلیمنٹ کے اجلاسوں میں یہ دیکھنا اہم ہوگا کہ آیا حکومت اس حوالے سے کوئی آئینی ترمیم کا بل پیش کرتی ہے یا نہیں۔
  • سیاسی اتفاق رائے: چونکہ صوبائی حدود میں تبدیلی کے لیے پارلیمنٹ میں دو تہائی اکثریت درکار ہوتی ہے، اس لیے اپوزیشن جماعتوں کا ردعمل اس معاملے میں فیصلہ کن ہوگا۔
  • آئینی تقاضے: قانونی ماہرین اس بات پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں کہ حکومت نئے انتظامی یونٹس کے قیام کے لیے آئینی پیچیدگیوں کو کیسے حل کرتی ہے۔

فی الحال، سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کی حمایت نے اس معاملے کو قومی ایجنڈے پر ایک اہم مقام دے دیا ہے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ کیا حکومت اس معاملے پر تمام اسٹیک ہولڈرز کو اعتماد میں لے کر آگے بڑھ سکے گی یا نہیں۔