سپریم کورٹ نے ملک بھر میں کنزیومر کمیشنوں میں زیر التوا مقدمات کی بڑھتی ہوئی تعداد پر سخت نوٹس لیتے ہوئے ایک جامع رپورٹ طلب کر لی ہے۔ چیف جسٹس سوریہ کانت نے اس صورتحال پر شدید تشویش کا اظہار کیا ہے کہ صارفین کو انصاف فراہم کرنے والے ادارے خود طویل تاخیر کا شکار ہیں۔

کنزیومر کمیشنوں میں زیر التوا مقدمات کا بحران

عام شہری جب کسی ناقص مصنوعات یا خراب سروس کے خلاف کنزیومر عدالت کا دروازہ کھٹکھٹاتا ہے، تو اس کی توقع فوری انصاف کی ہوتی ہے۔ تاہم، برسوں سے زیر التوا مقدمات کی وجہ سے یہ نظام اپنی افادیت کھو چکا ہے۔ چیف جسٹس نے اس بات پر زور دیا کہ صارفین کے تحفظ کے کمیشنوں کا بنیادی مقصد ہی سستا اور فوری انصاف فراہم کرنا ہے، جو کہ موجودہ صورتحال میں ممکن نہیں رہا۔

عدالت عظمیٰ نے نیشنل کنزیومر ڈسپیوٹس ریڈریسل کمیشن (NCDRC) کو ہدایت کی ہے کہ وہ درج ذیل تفصیلات پر مبنی رپورٹ جمع کرائے:
- ضلعی، صوبائی اور قومی سطح پر زیر التوا مقدمات کی کل تعداد۔
- کمیشنوں میں ججوں اور دیگر عملے کی خالی آسامیاں۔
- مقدمات کے نمٹانے کی موجودہ شرح اور نئے آنے والے کیسز کا تناسب۔

عام آدمی پر اثرات

مقدمات میں تاخیر کا سب سے زیادہ خمیازہ عام صارف کو بھگتنا پڑتا ہے۔ جب ایک کیس کا فیصلہ ہونے میں سالوں لگ جاتے ہیں، تو صارف کی ہمت جواب دے جاتی ہے اور کمپنیاں اپنی من مانی جاری رکھتی ہیں۔ یہ تاخیر انصاف کے حصول میں ایک بڑی رکاوٹ ہے، جس کی وجہ سے بہت سے لوگ اپنے قانونی حقوق سے دستبردار ہونے پر مجبور ہو جاتے ہیں۔

آئندہ کا لائحہ عمل

سپریم کورٹ کی جانب سے یہ رپورٹ طلب کرنا اس بات کی علامت ہے کہ عدلیہ اس شعبے میں اصلاحات لانے کے لیے سنجیدہ ہے۔ رپورٹ کے بعد خالی آسامیوں کو پُر کرنے اور مقدمات کے فوری تصفیے کے لیے ڈیجیٹل کیس مینجمنٹ سسٹم متعارف کرائے جانے کا امکان ہے۔ جن شہریوں کے مقدمات عدالتوں میں زیر التوا ہیں، انہیں امید رکھنی چاہیے کہ اس حکومتی اور عدالتی مداخلت سے ان کے کیسز کی سماعت میں تیزی آئے گی۔ فی الحال، تمام تر نظریں NCDRC کی جانب سے جمع کرائی جانے والی رپورٹ پر مرکوز ہیں۔