سپریم کورٹ آف پاکستان نے بی آئی ایس پی ریٹیلر آئی ڈی کی بحالی سے متعلق نچلی عدالتوں کے احکامات کو کالعدم قرار دے دیا ہے۔ عدالت نے فیصلہ دیا ہے کہ بینظیر انکم سپورٹ پروگرام (BISP) کے خلاف کسی پوائنٹ آف سیل (PoS) ایجنٹ کی جانب سے بلاک شدہ آئی ڈی کی بحالی کے لیے دائر کردہ درخواست قانونی طور پر قابل سماعت نہیں ہے۔
ہفتے کے روز سنایا گیا یہ فیصلہ بی آئی ایس پی کی جانب سے اپنے ادائیگیوں کے نیٹ ورک میں شفافیت لانے اور بدعنوانی کے خاتمے کی مہم میں ایک اہم پیش رفت ہے۔ اس فیصلے سے یہ واضح ہو گیا ہے کہ عدالتیں بی آئی ایس پی کے انتظامی معاملات اور ایجنٹس کے خلاف تادیبی کارروائیوں میں مداخلت نہیں کریں گی۔
بی آئی ایس پی ریٹیلر آئی ڈی کیوں بلاک کی جاتی ہے؟
بی آئی ایس پی انتظامیہ وقتاً فوقتاً ان ریٹیلرز کے خلاف سخت کارروائی کرتی ہے جو مستحقین کی رقوم میں سے کٹوتی کرتے ہیں یا بائیو میٹرک تصدیق کے عمل میں بے ضابطگیوں کے مرتکب پائے جاتے ہیں۔ جب انتظامیہ کو کسی ایجنٹ کے خلاف شکایات موصول ہوتی ہیں یا قواعد و ضوابط کی خلاف ورزی ثابت ہوتی ہے، تو اس کی bisp retailer id کو فوری طور پر بلاک کر دیا جاتا ہے۔
مذکورہ کیس میں، ایجنٹ نے عدالت سے استدعا کی تھی کہ اس کی آئی ڈی بحال کی جائے، تاہم سپریم کورٹ نے قرار دیا کہ یہ انتظامی معاملہ ہے اور اسے پروگرام کے اندرونی طریقہ کار کے ذریعے ہی حل کیا جانا چاہیے۔
ایجنٹس اور مستحقین کے لیے ہدایات
تمام رجسٹرڈ ایجنٹس کو تنبیہ کی جاتی ہے کہ وہ بی آئی ایس پی کے طے کردہ ضابطہ اخلاق کی سختی سے پابندی کریں۔ اگر کوئی ایجنٹ مستحقین سے اضافی فیس وصول کرتا ہے یا رقوم میں خوردبرد کرتا ہے، تو اس کے خلاف مستقل پابندی عائد کی جا سکتی ہے۔
آپ کو چاہیے کہ:
- مستحقین کو ملنے والی رقم میں سے ایک روپیہ بھی کٹوتی نہ کریں۔
- تمام لین دین بائیو میٹرک تصدیق کے ذریعے شفاف رکھیں۔
- کسی بھی تکنیکی مسئلے کی صورت میں عدالتی چارہ جوئی کے بجائے براہ راست بی آئی ایس پی کے ضلعی دفاتر سے رابطہ کریں۔
مستقبل کا لائحہ عمل
بی آئی ایس پی آنے والے دنوں میں اپنے نیٹ ورک کی مزید جانچ پڑتال کرے گا۔ ایجنٹس اپنی تفصیلات اور قواعد کے بارے میں مزید معلومات bisp.gov.pk کی آفیشل ویب سائٹ پر دیکھ سکتے ہیں۔ مستحقین کو ہدایت کی جاتی ہے کہ اگر کوئی ایجنٹ ان سے غیر قانونی کٹوتی کرنے کی کوشش کرے تو فوری طور پر بی آئی ایس پی ہیلپ لائن پر اطلاع دیں۔
