سپریم کورٹ آف پاکستان نے ایک اہم فیصلے میں قرار دیا ہے کہ خلع کا حق استعمال کرنے والی خواتین پر تشدد کرنا دراصل آئینِ پاکستان پر حملہ ہے۔ جسٹس ہاشم کاکڑ نے ریمارکس دیے کہ ریاست کی یہ ذمہ داری ہے کہ وہ ان خواتین کو تحفظ فراہم کرے جو قانونی طریقے سے اپنی شادی ختم کرنے کا فیصلہ کرتی ہیں۔
پاکستان میں خلع کا حق اور تحفظ
عدالت کا یہ فیصلہ واضح کرتا ہے کہ خلع کا قانونی راستہ اختیار کرنے پر کسی خاتون کو ہراساں کرنا یا ان پر جسمانی تشدد کرنا ناقابلِ قبول ہے۔ عدالت نے واضح کیا ہے کہ کوئی بھی شخص ذاتی رنجشوں یا روایات کی آڑ میں آئینی تحفظات کو نظر انداز نہیں کر سکتا۔ خلع لینے والی خواتین کے خلاف تشدد کو اب آئینی حقوق کی خلاف ورزی کے زمرے میں دیکھا جائے گا۔
آئینِ پاکستان اور خواتین کے حقوق
جسٹس ہاشم کاکڑ نے اپنے فیصلے میں آئینِ پاکستان کے تین بنیادی آرٹیکلز کا حوالہ دیا جو ہر شہری کو تحفظ اور مساوات کی ضمانت دیتے ہیں:
- آرٹیکل 9: ہر شخص کی جان اور آزادی کے تحفظ کی ضمانت دیتا ہے۔
- آرٹیکل 14: انسان کی عزتِ نفس اور گھر کی پرائیویسی کے تحفظ کو یقینی بناتا ہے۔
- آرٹیکل 25: تمام شہریوں کی مساوات پر زور دیتا ہے اور جنس کی بنیاد پر تفریق کو مسترد کرتا ہے۔
عدالت نے ان آرٹیکلز کا حوالہ دیتے ہوئے واضح کیا کہ ریاست اب ان افراد کے خلاف کارروائی کرے گی جو خلع کے قانونی عمل کو تشدد کا ذریعہ بناتے ہیں۔
متاثرہ خواتین کے لیے قانونی راستہ
اگر آپ یا آپ کی جانکاری میں کوئی خاتون خلع کا قانونی عمل شروع کرنے پر دھمکیوں یا تشدد کا سامنا کر رہی ہے، تو یاد رکھیں کہ قانون آپ کے ساتھ ہے۔ یہ فیصلہ عدالتی سطح پر ایک بڑی پیش رفت ہے، جس کے تحت ایسی ہراسانی کو آئین پر حملہ قرار دیا گیا ہے۔ کسی بھی قسم کے تشدد کی صورت میں فوری طور پر قریبی پولیس اسٹیشن سے رجوع کریں یا صوبائی خواتین کے تحفظ کے مراکز سے قانونی مدد حاصل کریں۔
مستقبل کے اثرات
توقع ہے کہ اس فیصلے کے بعد ملک بھر میں گھریلو تشدد کے خلاف قوانین پر عمل درآمد مزید سخت ہوگا۔ قانونی ماہرین کا ماننا ہے کہ اس عدالتی نظیر کے بعد خلع سے متعلق مقدمات میں خواتین کو تحفظ فراہم کرنا نچلی عدالتوں کے لیے آسان ہو جائے گا۔ ہم اس معاملے پر نظر رکھیں گے کہ آیا پولیس اور فیملی کورٹس کس طرح اس فیصلے کو عملی جامہ پہناتی ہیں۔
