سپریم کورٹ آف پاکستان نے ایک اہم فیصلے میں قرار دیا ہے کہ اپنے قانونی حقوق استعمال کرنے والی خواتین کو دندناتے ہوئے تشدد کا نشانہ نہیں بنایا جا سکتا۔ عدالت عظمیٰ نے اس مجرم کی اپیل کو مسترد کر دیا جس نے اپنی سابقہ بیوی کو عدالت کی جانب سے تنسیخِ نکاح کی ڈگری حاصل کرنے کے صرف دو دن بعد قتل کر دیا تھا۔

یہ فیصلہ گھریلو تشدد اور خواتین کو عدلیہ کے ذریعے طلاق یا خلع حاصل کرنے کے قانونی حق کے حوالے سے ایک سخت مثال قائم کرتا ہے۔ عدالت نے مجرم کی سزا کو برقرار رکھتے ہوئے واضح پیغام دیا ہے کہ عدالتی احکامات کا احترام لازم ہے اور قانونی حقوق حاصل کرنے والی خواتین کے خلاف کسی بھی قسم کی انتقامی کارروائی کو کچل دیا جائے گا۔

عدالت عظمیٰ کا موقف

فیصلے میں اس بات پر زور دیا گیا کہ ریاست اور عدلیہ کی یہ بنیادی ذمہ داری ہے کہ وہ شہریوں بالخصوص ان خواتین کا تحفظ یقینی بنائیں جو قانونی راستے اختیار کرتی ہیں۔ عدالت کا کہنا تھا کہ قانونی ڈگری جاری ہونے کے بعد قتل یا تشدد کا راستہ اپنانا قانون کی حکمرانی پر براہِ راست حملہ ہے۔

یہ مقدمہ اس وقت سامنے آیا جب مقتولہ نے اپنے شوہر سے عدالت کے ذریعے علیحدگی حاصل کی۔ ڈگری جاری ہونے کے چند ہی دنوں بعد سابق شوہر نے اس پر جان لیوا حملہ کر کے اسے قتل کر دیا۔ ٹیل اور ہائی کورٹ کی جانب سے مجرم کو پہلے ہی سزائیں سنائی جا چکی تھیں جنہیں سپریم کورٹ نے اب برقرار رکھا ہے۔

پاکستان میں خواتین کے قانونی حقوق کا تحفظ

ملک بھر میں قانونی ماہرین اور انسانی حقوق کے حامی طویل عرصے سے اس بات کی نشاندہی کرتے رہے ہیں کہ خواتین کو عدلیہ سے رجوع کرنے کے بعد شدید خطرات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ فیملی کورٹس ہر سال ہزاروں خلع کے کیسز نمٹاتی ہیں لیکن معاشرتی دباؤ اور تشدد کے خطرات برقرار رہتے ہیں۔

  • تنسیخِ نکاح کے عدالتی فیصلے حتمی قانونی دستاویزات ہیں۔
  • سزاؤں کے نفاذ اور خواتین پر حملوں کو سنگین جرم تصور کیا جائے گا۔
  • سپریم کورٹ کے فیصلے سے صنف پر مبنی تشدد کے خلاف زیرو ٹالیرنس پالیسی کو تقویت ملی ہے۔

آگے کیا ہوگا؟

اس نوعیت کے فیصلوں کے بعد زمینی حقائق پر عمل درآمد اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی کارکردگی کا جائزہ لینا اہم ہوگا۔ اسلام آباد، لاہور، کراچی سمیت تمام شہروں میں پولیس اور مصالحتی اداروں کو خواتین کو درپیش خطرات پر فوری ردعمل دینا ہوگا۔