انسانی حقوق کی تنظیمیں اور بلوچ کارکنان حالیہ surab airstrike balochistan کی آزادانہ بین الاقوامی تحقیقات کا مطالبہ کر رہے ہیں، جس کی وجہ مبینہ میزائل کے ملبے کی ویڈیو فوٹیج کا سامنے آنا اور سویلین ہلاکتوں کے دعوے ہیں۔ اگست کے وسط میں ہونے والے اس فوجی آپریشن نے خطے میں سویلین تحفظ اور سیکیورٹی فورسز کے طریقہ کار پر ایک نئی بحث چھیڑ دی ہے۔

اس صورتحال کے حوالے سے اہم ترین حقائق درج ذیل ہیں:
- واقعے کی تاریخ: فوجی آپریشن اور فضائی بمباری کا یہ واقعہ 14 اگست 2024 کے آس پاس پیش آیا۔
- مقام: سوراب (سہراب) سب ڈویژن کا علاقہ گدر، ضلع قلات، بلوچستان۔
- کارکنان کے دعوے: بلوچ رہنما میر یار بلوچ نے 15 اگست 2024 کو ویڈیو فوٹیج شیئر کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ یہ میزائل کا ملبہ ہے اور ریاست پر شہریوں کو نشانہ بنانے کا الزام لگایا۔
- انسانی حقوق کا ردعمل: انسانی حقوق کی تنظیموں 'پانک' اور 'بلوچ وائس فار جسٹس' (BVJ) نے انٹر سروسز پبلک ریلیشنز (ISPR) کے موقف کو مسترد کر دیا ہے۔
- دیگر علاقوں میں احتجاج: آزاد جموں و کشمیر کونسل فار ہیومن رائٹس نے بھی 14 اگست 2024 کو ریاستی طاقت کے بے جا استعمال کے خلاف آزادانہ تحقیقات کا مطالبہ کیا، جو احتساب کے وسیع تر مطالبات کو ظاہر کرتا ہے۔

سوراب فضائی حملے کے مبینہ میزائل ملبے پر کارکنان کے دعوے

15 اگست 2024 کو، معروف بلوچ کارکن میر یار بلوچ نے سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو جاری کی جس میں مبینہ طور پر فوجی ہتھیاروں کا ملبہ دکھایا گیا ہے۔ ان کے بیانات کے مطابق، یہ ملبہ سوراب کے علاقے گدر میں شدید فضائی بمباری کے بعد رہائشی علاقوں سے ملا۔ انہوں نے پاکستانی فوج پر نہتے شہریوں کے خلاف بھاری ہتھیار استعمال کر کے "جنگی جرائم" کا ارتکاب کرنے کا الزام لگایا۔

بلوچ رہنما نے امریکی حکومت اور بین الاقوامی اداروں سے اس معاملے میں مداخلت کی اپیل کی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اندرونی سیکیورٹی آپریشنز میں جدید فوجی ٹیکنالوجی کا استعمال عالمی برادری کی توجہ کا متقاضی ہے۔ اگرچہ اس ویڈیو کی آزادانہ تصدیق ابھی باقی ہے، لیکن اس نے مقامی سطح پر تشویش کی لہر دوڑا دی ہے۔

انسانی حقوق کی تنظیموں کی جانب سے ڈی جی آئی ایس پی آر کے موقف کی تردید

فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) نے ابتدائی طور پر سوراب میں ہونے والے آپریشن کو دہشت گردوں کے خلاف ایک ٹارگٹڈ کارروائی قرار دیا تھا۔ تاہم، مقامی انسانی حقوق کی تنظیموں نے فوری طور پر اس موقف کو چیلنج کر دیا۔ 14 اگست 2024 کو بلوچ وائس فار جسٹس (BVJ) نے ڈی جی آئی ایس پی آر کے بیان کو یکسر مسترد کر دیا۔

تنظیم کا کہنا تھا کہ فوجی بیانات گدر کی زمینی حقیقت سے مطابقت نہیں رکھتے۔ انہوں نے نشاندہی کی کہ متاثرہ علاقوں تک میڈیا کی رسائی نہ ہونے کی وجہ سے اصل نقصانات سامنے نہیں آپاتے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ غیر جانبدار مبصرین کے ذریعے اس واقعے کی شفاف تحقیقات کرائی جائیں۔

اسی طرح، بلوچ نیشنل موومنٹ کے انسانی حقوق کے شعبے 'پانک' نے بھی 14 اگست 2024 کو سوراب بمباری کی شدید مذمت کی۔ پانک نے الزام لگایا کہ لڑاکا طیاروں نے سویلین آبادیوں کو نشانہ بنایا جس سے مقامی خاندان متاثر ہوئے۔ تنظیم نے متنبہ کیا کہ رہائشی علاقوں میں فوجی کارروائیاں انسانی بحران کو جنم دے رہی ہیں۔

دیگر خطوں میں بھی احتساب کے مطالبات میں تیزی

بلوچستان میں فوجی کارروائیوں کے خلاف اٹھنے والی آوازیں دیگر علاقوں میں ہونے والے مطالبات سے مطابقت رکھتی ہیں۔ 14 اگست 2024 کو، ہیومن رائٹس کونسل آف آزاد جموں و کشمیر نے بھی حالیہ احتجاجی مظاہروں کے دوران قانون نافذ کرنے والے اداروں کی جانب سے طاقت کے مبینہ بے جا استعمال پر گہری تشویش کا اظہار کیا۔

کونسل نے شہریوں کی ہلاکتوں پر غیر جانبدارانہ اور شفاف تحقیقات کا مطالبہ کیا۔ یہ صورتحال ظاہر کرتی ہے کہ مختلف علاقوں میں مقامی حقوق کی تنظیمیں ریاستی سیکیورٹی بیانات پر سوالات اٹھا رہی ہیں اور عدالتی نگرانی کا تقاضا کر رہی ہیں۔

شہریوں کے لیے ضروری ہدایات اور معلومات

اگر آپ کے رشتہ دار یا کاروباری تعلقات ضلع قلات یا سوراب سے ہیں، تو موجودہ سیکیورٹی صورتحال میں درج ذیل باتوں کا خیال رکھیں:
- معلومات کی تصدیق: سوشل میڈیا پر غیر تصدیق شدہ ویڈیوز یا افواہیں شیئر کرنے سے گریز کریں کیونکہ اس سے کشیدگی بڑھ سکتی ہے۔
- رابطے کے محفوظ ذرائع: بلوچستان میں موجود اپنے پیاروں سے رابطے میں رہیں، اور یہ بات ذہن میں رکھیں کہ آپریشنز کے دوران موبائل نیٹ ورک عارضی طور پر معطل ہو سکتے ہیں۔
- مستند ذرائع پر بھروسہ کریں: زمینی حقائق جاننے کے لیے ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان (HRCP) اور دیگر غیر جانبدار اداروں کی رپورٹس کا ملحوظ خاطر رکھیں۔

آگے کیا ہونے والا ہے؟

آنے والے دنوں میں یہ دیکھنا اہم ہوگا کہ آیا وفاقی حکومت یا عسکری قیادت سوراب فضائی حملے کے حوالے سے لگائے گئے الزامات کا کوئی باقاعدہ جواب دیتی ہے یا نہیں۔ آئی ایس پی آر کی جانب سے ہتھیاروں کے استعمال کے حوالے سے وضاحت متوقع ہے۔

اس کے علاوہ، یہ بھی دیکھنا ہوگا کہ آیا اقوام متحدہ یا دیگر بین الاقوامی سفارت خانے اس معاملے پر کوئی ردعمل ظاہر کرتے ہیں۔ سپریم کورٹ آف پاکستان یا پارلیمانی کمیٹیوں کی جانب سے بلوچستان کی صورتحال پر کوئی بھی ممکنہ نوٹس اس بحران کے حل میں اہم کردار ادا کر سکتا ہے۔