صوابی میں تمباکو کے کاشتکاروں کا احتجاج 10 اگست 2024 کو اس وقت انتہائی شدت اختیار کر گیا جب غصے سے بپھرے ہوئے کاشتکاروں نے صوابی پریس کلب کے باہر 500 کلوگرام سے زائد اعلیٰ معیار کا تمباکو نذر آتش کر دیا۔ یہ احتجاج ملٹی نیشنل خریدار کمپنیوں کی جانب سے انتہائی کم اور استحصالی قیمتیں مقرر کرنے کے خلاف ریکارڈ کرایا گیا۔ اپنی ہی خون پسینے کی کمائی کو سرعام آگ لگانے کا یہ واقعہ خیبر پختونخوا کے زرعی طبقے میں بڑھتی ہوئی مایوسی کو ظاہر کرتا ہے، جہاں پیداواری لاگت میں بے پناہ اضافے اور تمباکو کی قیمتوں میں جمود نے کسانوں کو دیوار سے لگا دیا ہے۔

کاشتکاروں نے، جنہیں مقامی سیاسی رہنماؤں، سماجی تنظیموں اور صوابی کے شہریوں کی حمایت حاصل تھی، پہلے اہم شاہراہوں کو بلاک کیا اور پھر پریس کلب کے باہر جمع ہو گئے۔ مظاہرین نے پاکستان ٹوبیکو بورڈ (PTB) اور سگریٹ بنانے والی ملٹی نیشنل کمپنیوں کے خلاف شدید نعرے بازی کی اور ان پر الزام لگایا کہ وہ گٹھ جوڑ کر کے قیمتوں کو جان بوجھ کر کم رکھ رہے ہیں۔

صوابی تمباکو احتجاج کے اہم حقائق

- واقعے کی تاریخ: 10 اگست 2024
- مقام: پریس کلب صوابی، خیبر پختونخوا
- تباہ شدہ فصل: تقریباً 500 کلوگرام تیار ورجینیا تمباکو کو آگ لگائی گئی
- موجودہ سرکاری قیمت: خریداروں کی جانب سے 350 روپے فی کلو کی پیشکش
- پیداواری لاگت کا تخمینہ: 600 سے 650 روپے فی کلوگرام
- بنیادی مطالبات: کم از کم امدادی قیمت 800 سے 1000 روپے فی کلو مقرر کی جائے اور پاکستان ٹوبیکو بورڈ قوانین پر سختی سے عمل درآمد کروائے۔
- سرکاری ریگولیٹر ویب سائٹ: پاکستان ٹوبیکو بورڈ (PTB)

صوابی میں فصلوں کو آگ لگانے کی نوبت کیوں آئی؟

صوابی کے کسانوں کے لیے، جو پاکستان میں اعلیٰ معیار کے ورجینیا تمباکو کی پیداوار کا مرکز ہے، اپنی ہی تیار فصل کو آگ لگانا ایک انتہائی تکلیف دہ مگر ناگزیر قدم تھا۔ بڑی خریدار کمپنیوں کی جانب سے پیش کی جانے والی 350 روپے فی کلو کی قیمت کسانوں کی بنیادی لاگت بھی پوری نہیں کر رہی۔ کاشتکاروں کا کہنا ہے کہ ملٹی نیشنل کمپنیاں سگریٹ کی فروخت سے اربوں روپے کما رہی ہیں جبکہ بنیادی پیداواری کسان کو غربت کی دلدل میں دھکیلا جا رہا ہے۔

مظاہرے کے دوران کسان اتحاد کے رہنماؤں نے نشاندہی کی کہ تمباکو کو بھٹیوں میں سکھانے (curing) کے اخراجات اب قابو سے باہر ہو چکے ہیں۔ اس عمل کے لیے لکڑی اور گیس کا بے دریغ استعمال ہوتا ہے۔ خیبر پختونخوا میں لکڑی کی قیمتیں دگنی ہو چکی ہیں اور گیس کے ٹیرف میں بھی بھاری اضافہ ہوا ہے۔ ایسے میں چھوٹے کسانوں کے لیے یہ اخراجات برداشت کرنا ناممکن ہو گیا ہے۔ فصل جلانا اس بات کا علامتی پیغام تھا کہ وہ اپنی فصل کو کوڑیوں کے دام بیچنے کے بجائے اسے تباہ کرنا بہتر سمجھتے ہیں۔

پاکستان ٹوبیکو بورڈ پر تنقید اور غصہ

مظاہرین کے غصے کا رخ سب سے زیادہ پاکستان ٹوبیکو بورڈ (PTB) کی طرف تھا۔ یہ بورڈ تمباکو کی صنعت کو ریگولیٹ کرنے اور کاشتکاروں و خریداروں دونوں کے حقوق کے تحفظ کے لیے قائم کیا گیا تھا، لیکن اب اس پر مکمل ناکامی کا الزام لگایا جا رہا ہے۔

موجودہ نظام کے تحت، بورڈ کی ذمہ داری ہے کہ وہ ملک میں مہنگائی اور پیداواری لاگت کو مدنظر رکھتے ہوئے ایک منصفانہ امدادی قیمت کا اعلان اور نفاذ کرے۔ تاہم، کسانوں کا دعویٰ ہے کہ بورڈ ہمیشہ بااثر کارپوریٹ خریداروں کا ساتھ دیتا ہے۔ اگرچہ آزاد اداروں کے مطابق پیداواری لاگت 600 روپے فی کلو سے زائد ہے، لیکن بورڈ کمپنیوں کو 350 روپے میں تمباکو خریدنے سے روکنے میں ناکام رہا ہے۔ اس قانون سازی کے فقدان نے کارپوریٹ کمپنیوں کو کھلی چھوٹ دے دی ہے کہ وہ مجبور کسانوں سے اپنی مرضی کے نرخوں پر فصل خریدیں۔

خیبر پختونخوا میں تمباکو کی کاشت کے معاشی حقائق

تمباکو پاکستان کی سب سے زیادہ منافع بخش نقدی فصلوں میں سے ایک ہے، جو فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی (FED) اور سیلز ٹیکس کی مد میں قومی خزانے کو سالانہ اربوں روپے فراہم کرتی ہے۔ صوابی، مردان اور چارسدہ کے اضلاع ملک کا سب سے زیادہ ورجینیا تمباکو پیدا کرتے ہیں۔

اس شعبے سے حاصل ہونے والے بھاری ٹیکسوں کے باوجود کسانوں کی معاشی حالت زار انتہائی خراب ہے۔ گزشتہ ایک سال میں زرعی مداخل کی قیمتیں آسمان سے باتیں کرنے لگی ہیں:
- کھادیں: بلیک مارکیٹ میں یوریا کی بوری 4500 روپے سے تجاوز کر چکی ہے جبکہ ڈی اے پی کی قیمتیں بھی ریکارڈ سطح پر ہیں۔
- ادویات اور ایندھن: ڈیزل کی قیمتوں میں اضافے سے ٹریکٹر کے کرائے اور ٹیوب ویل چلانے کے اخراجات بڑھ گئے ہیں۔
- مزدوری: مہنگائی کی وجہ سے کھیتوں میں کام کرنے والے مزدوروں کی دیہاڑی میں 30 سے 40 فیصد اضافہ ہوا ہے۔

ان تمام اخراجات کو ملا کر ایک کلوگرام معیاری تمباکو تیار کرنے پر 550 سے 650 روپے خرچ ہوتے ہیں۔ اسے 350 روپے میں بیچنے کا مطلب ہے کہ کسان کو فی کلو 300 روپے کا براہ راست نقصان ہو رہا ہے، جو انہیں قرضوں کے بوجھ تلے دبا رہا ہے۔

متاثرہ کسان کیا کریں؟

اگر آپ صوابی یا خیبر پختونخوا کے دیگر علاقوں میں تمباکو کے کاشتکار ہیں اور اس بحران سے متاثر ہیں، تو اپنے حقوق کے تحفظ کے لیے درج ذیل اقدامات کریں:
- تحریری ریکارڈ رکھیں: خریداری مراکز سے ہمیشہ باقاعدہ رسید حاصل کریں جس پر وزن، گریڈ اور قیمت واضح لکھی ہو۔ زبانی معاہدوں پر ہرگز بھروسہ نہ کریں۔
- شکایات درج کروائیں: قیمتوں میں کمی یا گریڈنگ میں ناانصافی کے خلاف پاکستان ٹوبیکو بورڈ کے پورٹل ptb.gov.pk پر فوری شکایت درج کریں یا مردان میں ان کے علاقائی دفتر سے رجوع کریں۔
- اتحاد قائم کریں: مڈل مین کو انفرادی طور پر فصل بیچنے کے بجائے مقامی کسان کوآپریٹو سوسائٹیز کے ذریعے اجتماعی سودے بازی کریں تاکہ کمپنیوں پر دباؤ بڑھایا جا سکے۔

آگے کیا ہوگا؟

صوابی میں تمباکو کے کاشتکاروں کا احتجاج اب صوبائی اسمبلی کے ارکان کی توجہ کا مرکز بن چکا ہے۔ توقع ہے کہ خیبر پختونخوا اسمبلی کے آئندہ اجلاسوں میں مقامی ارکانِ اسمبلی تمباکو کی قیمتوں پر نظرثانی کے لیے قراردادیں پیش کریں گے۔

اگر پاکستان ٹوبیکو بورڈ اور ملٹی نیشنل کمپنیوں نے اگلے دو ہفتوں کے اندر کسان اتحاد کے ساتھ مذاکرات شروع نہ کیے، تو کسانوں نے اسلام آباد-پشاور موٹروے (M-1) بلاک کرنے کی دھمکی دی ہے۔ اس سے نہ صرف علاقائی تجارت متاثر ہوگی بلکہ وفاقی حکومت کو بھی اس معاملے میں مداخلت کرنی پڑے گی۔ ہم اس صورتحال پر نظر رکھیں گے اور پیش رفت سے قارئین کو آگاہ کرتے رہیں گے۔