پاکستان میں نظام کا انہدام اب ایک ایسی حقیقت بن چکا ہے جسے خود حکومتی ایوانوں میں تسلیم کیا جا رہا ہے۔ وفاقی وزیر داخلہ نے حال ہی میں یہ اعتراف کر کے ایک نئی بحث کو جنم دیا ہے کہ ملک کا موجودہ نظام اپنی افادیت کھو چکا ہے اور اسے مکمل طور پر 'ری سیٹ' کرنے کی ضرورت ہے۔ یہ بیان اس بڑھتی ہوئی خلیج کی عکاسی کرتا ہے جو حکومتی مشینری اور عوام کی ضروریات کے درمیان پیدا ہو چکی ہے۔
پاکستان میں نظام کا انہدام اور صحت کا شعبہ
جب ایک اعلیٰ حکومتی عہدیدار یہ کہتا ہے کہ نظام ناکام ہو چکا ہے، تو اس کا مطلب ہے کہ موجودہ ڈھانچہ اب مزید بوجھ اٹھانے کے قابل نہیں رہا۔ عام پاکستانی کے لیے یہ 'کولپس' صرف الفاظ نہیں بلکہ روزمرہ کی زندگی کا تلخ تجربہ ہے۔ اس کی سب سے واضح مثال ہمارا صحت کا شعبہ ہے۔ سرکاری ہسپتالوں میں ادویات کی قلت، طبی عملے کی کمی، اور بنیادی سہولیات کا فقدان اس بات کا ثبوت ہے کہ صحت کا نظام وینٹی لیٹر پر ہے۔
ہمیں اب کیا توقع رکھنی چاہیے؟
وزیر داخلہ کی جانب سے 'ری سیٹ' کا مطالبہ یہ ظاہر کرتا ہے کہ معمولی اصلاحات سے اب کام نہیں چلے گا۔ ایک حقیقی تبدیلی کے لیے بنیادی ڈھانچے میں تبدیلی کی ضرورت ہے، جس میں درج ذیل نکات شامل ہونے چاہئیں:
- سول سروس اور بیوروکریسی میں احتساب کا سخت نظام۔
- عوامی ریکارڈز کو ڈیجیٹائز کرنا تاکہ بدعنوانی کا خاتمہ ہو سکے۔
- قومی بجٹ کا رخ انتظامی اخراجات سے ہٹا کر صحت اور تعلیم کی طرف موڑنا۔
- سرکاری اداروں میں میرٹ کی بنیاد پر تقرریاں۔
آپ کو کیا کرنا چاہیے؟
ایک عام شہری کے طور پر، آپ کو اپنے حقوق کے لیے آواز اٹھاتے رہنا چاہیے اور حکومتی پالیسیوں پر گہری نظر رکھنی چاہیے۔ آنے والے دنوں میں پارلیمنٹ میں ہونے والی بحثوں پر توجہ دیں، کیونکہ انہی ایوانوں میں یہ فیصلہ ہوگا کہ اس 'ری سیٹ' کا عملی روپ کیا ہوگا۔ اگر یہ محض بیانات تک محدود رہا تو عوام کی مشکلات میں مزید اضافہ ہوگا۔
اگلے چند ماہ یہ دیکھنے کے لیے اہم ہوں گے کہ کیا حکومت عملی طور پر کوئی ٹھوس لائحہ عمل پیش کرتی ہے یا یہ بیان بازی صرف سیاسی دباؤ کم کرنے کے لیے تھی۔
