تمل ناڈو کے وزیراعلیٰ وجے کی اہلیہ سنگیتا نے جمعہ کے روز فیملی کورٹ میں دائر اپنی طلاق کی درخواست باضابطہ طور پر واپس لے لی ہے۔ اس پیشرفت کے بعد عدالت نے اس قانونی معاملے کو نمٹا دیا ہے، جس سے بھارتی فلمی اور سیاسی حلقوں میں جاری قیاس آرائیوں کا سلسلہ تھم گیا ہے۔
تمل ناڈو کے وزیراعلیٰ وجے کی طلاق کا معاملہ
یہ قانونی لڑائی کافی عرصے سے عوامی توجہ کا مرکز بنی ہوئی تھی۔ سنگیتا نے اپنی ابتدائی درخواست میں اپنے شوہر، اداکار اور سیاستدان سی جوزف وجے پر سنگین الزامات عائد کیے تھے۔ سنگیتا نے اپنی عرضی میں دعویٰ کیا تھا کہ وجے کے ایک اداکارہ کے ساتھ ناجائز تعلقات ہیں۔
درخواست میں مزید کہا گیا تھا کہ انہیں مسلسل ذہنی اذیت کا سامنا کرنا پڑا ہے اور انہیں نظر انداز کیا گیا۔ سنگیتا نے علیحدگی کے دکھ اور ازدواجی زندگی میں درپیش مشکلات کو اپنی طلاق کی درخواست کی بنیادی وجوہات قرار دیا تھا۔
عدالتی کارروائی اور مستقبل
درخواست واپس لیے جانے کے بعد عدالت نے مقدمے کو نمٹا دیا ہے۔ اگرچہ جوڑے کی جانب سے اس فیصلے کے بعد کوئی تفصیلی بیان جاری نہیں کیا گیا، لیکن قریبی ذرائع کا کہنا ہے کہ یہ معاملہ اب ختم ہو چکا ہے۔ عوامی شخصیات کے معاملات میں اکثر عدالتی کارروائی کے دوران نجی سطح پر مفاہمت ہو جاتی ہے تاکہ خاندان کی پرائیویسی برقرار رہے۔
قارئین کے لیے اہم معلومات
وجے کے مداحوں اور ان کی سیاسی جماعت کے کارکنوں کے لیے یہ خبر ایک اہم موڑ ہے۔ سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی افواہوں کے برعکس، اب یہ بات واضح ہے کہ قانونی طور پر یہ طلاق کا کیس بند ہو چکا ہے۔ قارئین کو مشورہ دیا جاتا ہے کہ وہ اس معاملے پر کسی بھی قسم کی غیر مصدقہ اطلاعات پر یقین نہ کریں کیونکہ عدالت نے اس معاملے کو اب مکمل طور پر نمٹا دیا ہے۔
