اسلام آباد میں منعقدہ خصوصی ورکشاپس کے بعد پاکستانی زرعی برآمد کنندگان کے لیے بیجنگ کی بڑی مارکیٹ تک رسائی آسان ہو گئی ہے۔ ٹریڈ ڈویلپمنٹ اتھارٹی آف پاکستان (ٹی ڈی اے پی) نے پانچ روزہ تربیتی پروگرام کا کامیابی سے اختتام کیا جس کا مقصد کاشتکاروں کو چین کے نئے china maize export قوانین سے آگاہ کرنا تھا۔ عالمی منڈی کے بدلتے ہوئے رجحانات کے پیش نظر مقامی پروڈیوسرز کے لیے ضروری ہے کہ وہ چینی کسٹم حکام کے طے کردہ سخت حفظان صحت کے اصولوں پر عمل کریں تاکہ برآمدی کھیپ کو بندرگاہوں پر روکا نہ جائے۔
بیجنگ کے سخت پروٹوکولز کو سمجھنا
عالمی منڈی میں اجناس کی فراہمی اب محض عام برآمدات تک محدود نہیں رہی بلکہ دو طرفہ معاہدوں کے تحت فارم سے لے کر جہاز میں لادنے تک ہر مرحلے کی مکمل جانچ پڑتال لازمی ہے۔ ٹی ڈی اے پی کے سیشنز کے دوران ماہرین نے شرکاء کو کیڑوں کے کنٹرول، نمی کی مقررہ حد اور محفوظ گوداموں کے استعمال کے بارے میں تفصیلی بریفنگ دی۔ اگر مقامی کھیپ میں نمی کی مقدار زیادہ پائی جائے یا ممنوعہ اجزاء شامل ہوں تو چینی حکام پوری کھیپ مسترد کر دیتے ہیں۔ کسانوں کو سکھایا گیا کہ کیسے درست طریقوں سے فصل کی خشک زنی اور سرٹیفائیڈ ادویات کا استعمال ان کے منافع کو نقصان سے بچا سکتا ہے۔
- کھیپ بھیجنے سے پہلے زہریلے مادوں اور مائیکوٹوکسن کی لازمی لیبارٹری ٹیسٹنگ۔
- فصل کے آغاز اور اسٹوریج کی رجسٹریشن کے لیے سخت دستاویزات کی فراہمی۔
- آلودگی سے بچنے کے لیے فوڈ گریڈ کنٹینرز کا استعمال۔
مقامی کاشتکاروں اور معیشت کے لیے اس کا مطلب
مکئی اب پاکستان کی اہم نقدی فصلوں میں شامل ہو چکی ہے، جس کی بنیادی وجہ پولٹری فیڈ انڈسٹری کی مانگ اور پنجاب و سندھ میں بہتر پیداوار ہے۔ تاہم فاضل پیداوار کو بین الاقوامی قیمتوں پر فروخت کرنے کے لیے روایتی سپلائی چین سے نکلنا ہوگا۔ جب مقامی کاشتکار ان سخت حفاظتی معیارات پر پورا اتریں گے تو منڈی میں ریٹ بہتر ہوں گے اور بڑے تجارتی ادارے بھی آگے آئیں گے۔ حکومت کو امید ہے کہ اس مربوط حکمت عملی سے زرعی برآمدات میں خاطر خواہ اضافہ ہوگا۔
اب آپ کو کیا کرنا چاہیے
اگر آپ پنجاب یا خیبر پختونخوا میں کمرشل فارمنگ سے وابستہ ہیں، اجناس کا گودام چلاتے ہیں یا مڈل مین ہیں، تو آپ کو فوری طور پر اپنے ضعی زرعی دفتر سے رابطہ کرنا چاہیے۔ جدید نمی ماپنے والے آلات میں سرمایہ کاری کریں اور اپنی فصل کو کچی حالت میں نہ بیچیں۔ کھیپ کو کراچی بندرگاہ بھیجنے سے پہلے کسی منظور شدہ لیبارٹری سے اس کا معیار ضرور چیک کروائیں۔
آگے کیا دیکھنا ہے
آئندہ سیزن کے دوران چینی بندرگاہوں کے لیے روانہ ہونے والی اجناس کے حجم پر نظر رکھیں۔ یہ بھی دیکھنا ہوگا کہ کیا وزارتِ غذائی تحفظ ساہیوال، اوکاੜا اور فیصل آباد جیسے اضلاع میں مزید سرٹیفائیڈ لیبارٹریز قائم کرتی ہے یا نہیں۔ اگر یہ سہولیات بہتر ہوئیں تو مشرقی ایشیا میں پاکستان کی زرعی برآمدات مزید بڑھ سکتی ہیں۔
