کووڈ-19 کے بعد بھی پاکستان میں ٹیچنگ میتھڈز یعنی طریقہ تدریس میں کوئی بڑی تبدیلی دیکھنے میں نہیں آئی ہے۔ ماہرین تعلیم کا ماننا ہے کہ اسکولوں اور کالجوں میں تعلیم کا معیار اب بھی پرانے ڈھب پر چل رہا ہے جس سے طلبا کو جدید دور کے چیلنجز کا سامنا کرنے میں مشکلات پیش آ رہی ہیں۔ ڈاکٹر یاسمین رشیدی کے مطابق، تعلیمی اداروں کو اب جدید خطوط پر استوار کرنے کی اشد ضرورت ہے۔

پاکستان میں تدریسی طریقہ کار کیوں تبدیل نہیں ہوئے؟

اگرچہ وبا کے دوران آن لائن تعلیم کا تجربہ کیا گیا، لیکن یہ صرف ایک عارضی حل ثابت ہوا۔ ڈاکٹر یاسمین رشیدی کا کہنا ہے کہ ہر نئی چیز کی طرح جدید ٹیکنالوجی کے بھی مثبت اور منفی دونوں پہلو ہیں۔ بدقسمتی سے، تعلیمی اداروں میں اس کے غیر محتاط استعمال سے طلبا کی توجہ منتشر ہو رہی ہے اور وہ غیر مستند معلومات پر انحصار بڑھا رہے ہیں۔ کلاس رومز میں جدید ٹیکنالوجی کو بطور 'ٹول' استعمال کرنے کے بجائے اسے صرف ایک متبادل کے طور پر دیکھا گیا ہے، جس سے طلبا کی تخلیقی صلاحیتیں متاثر ہو رہی ہیں۔

تربیت کا فقدان اور اس کے اثرات

ڈاکٹر یاسمین کے مطابق اساتذہ کو جدید ٹیکنالوجی کے ساتھ ہم آہنگ کرنے کے لیے مناسب تربیت نہیں دی گئی۔ اس کے نتیجے میں:
- طلبا آن لائن دستیاب غیر تصدیق شدہ معلومات کو ہی حتمی سچ مان لیتے ہیں۔
- کلاس روم میں انٹرنیٹ اور گیجٹس کا استعمال تعلیمی عمل میں مدد دینے کے بجائے خلفشار کا باعث بن رہا ہے۔
- اساتذہ کے پاس ڈیجیٹل مواد کو فلٹر کرنے اور طلبا کی رہنمائی کرنے کے لیے ضروری مہارتوں کی کمی ہے۔

اب کیا کرنے کی ضرورت ہے؟

اگر آپ طالب علم ہیں تو اپنی تحقیق کے لیے ہمیشہ مستند ویب سائٹس اور کتابوں کا انتخاب کریں۔ کسی بھی معلومات کو سوشل میڈیا یا اے آئی چیٹ بوٹس سے لینے کے بعد اسے کسی مستند تعلیمی ویب سائٹ سے ضرور چیک کریں۔ تعلیمی اداروں کو چاہیے کہ وہ اساتذہ کے لیے 'ڈیجیٹل لٹریسی' کے ورکشاپس کا اہتمام کریں تاکہ وہ طلبا کو ٹیکنالوجی کا مثبت استعمال سکھا سکیں۔

مستقبل میں کیا توقع رکھی جائے؟

آنے والے وقت میں تعلیمی بورڈز اور ہائر ایجوکیشن کمیشن (HEC) کی جانب سے ڈیجیٹل نصاب میں تبدیلیوں کی توقع ہے۔ یہ دیکھنا باقی ہے کہ آیا حکومت اساتذہ کی تربیت کے لیے عملی اقدامات کرتی ہے یا یہ معاملہ صرف پالیسی دستاویزات تک محدود رہے گا۔ طلبا اور والدین کو چاہیے کہ وہ اپنے اداروں سے ان کے ڈیجیٹل تدریسی پلان کے بارے میں سوالات پوچھیں تاکہ تعلیمی معیار کو یقینی بنایا جا سکے۔