ٹیلی گرام کے بانی پاول دوروف نے انکشاف کیا ہے کہ ایک جعل ساز گروہ کی جانب سے رچائے گئے بھتہ خوری کے منصوبے نے ایپل کو دھوکہ دیا، جس کے نتیجے میں ٹیلی گرام کو عارضی طور پر ایپ اسٹور سے ہٹا دیا گیا۔ پاکستان سمیت دنیا بھر کے لاکھوں صارفین اس اچانک بندش سے متاثر ہوئے جو روزمرہ کی بات چیت، خبروں کی ترسیل اور پیشہ ورانہ امور کے لیے اس انکرپٹڈ پلیٹ فارم پر انحصار کرتے ہیں۔
Prolink
پاکستانی صارفین جو سیکیورٹی اپ ڈیٹس اور نئے فیچرز کے لیے ٹیلی گرام ایپ اسٹور پر گہری نظر رکھتے ہیں، اس اچانک غائب ہونے پر سخت پریشانی کا شکار ہوئے۔ دوروف کی جانب سے وضاحت آنے کے بعد اس کمیونٹی کو بڑا ریلیف ملا ہے جو نجی پیغامات اور میڈیا شیئرنگ کے لیے متبادل ڈیجیٹل انفراسٹرکچر پر انحصار کرتی ہے۔
ایپل کے خلاف جبری وصولی کا یہ کھیل کیسے کھیلا گیا
اس سازش کے پیچھے موجود عناصر نے ایپل کے خودکار مواد کی جانچ پڑتال اور پالیسی ٹیموں کو دھوکہ دینے کے لیے جدید ہتھکنڈے استعمال کیے۔ کاپی رائٹ کے جعلی دعوے اور قانونی نوٹس تیار کر کے ان جعل سازوں نے ٹیک جائنٹ کو یقین دلایا کہ ٹیلی گرام پلیٹ فارم کی ہدایات کی خلاف ورزی کر رہا ہے۔ ایپل نے احتیاطی تدبیر کے طور پر فوری طور پر اس ایپلی کیشن کو ہٹا دیا جب تک کہ وہ جعلی دعووں کی جانچ پڑتال کر رہا تھا۔
پلیٹ فارم کی سیکیورٹی ٹیمیں قانونی دھمکیاں ملنے پر عام طور پر فوری کارروائی کرتی ہیں، جس سے ایسی کمزوری پیدا ہوتی ہے جسے منفی عناصر کبھی کبھار استعمال کرتے ہیں۔ دوروف نے اس بات پر زور دیا کہ ٹیلی گرام کی اندرونی انجینئرنگ ٹیموں نے ایپل کو قابل تصدیق جوابی شواہد فراہم کرنے کے لیے دن رات کام کیا۔ اس تیزی سے تعاون نے اس بات کو یقینی بنایا کہ خلل عالمی ایکو سسٹم کو مستقل نقصان پہنچانے سے پہلے پلیٹ فارم بحال ہو جائے۔
پاکستانی صارفین اور ڈیجیٹل کریٹرز پر اثرات
گزشتہ دو سالوں کے دوران پاکستان میں ٹیلی گرام کا استعمال تیزی سے بڑھا ہے، خاص طور پر کرپٹو ٹریڈرز، سافٹ ویئر ڈویلپرز اور آزاد صحافیوں کے درمیان۔ دیگر مرکزی پلیٹ فارمز کے برعکس جنہیں مقامی حکام کی طرف سے سخت جانچ پڑتال یا پابندیوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے، ٹیلی گرام بغیر کسی رکاوٹ کے معلومات کی ترسیل کا ایک اہم ذریعہ رہا ہے۔
جب یہ ایپ آئی فونز سے غائب ہوئی تو مقامی صارفین کو خدشہ لاحق ہوا کہ شاید دیگر سوشل پلیٹ فارمز کی طرح یہاں بھی کوئی مستقل پابندی عائد کر دی گئی ہے۔ کئی چھوٹے کاروباری حضرات جو اس پلیٹ فارم کے ذریعے کسٹمر سروس بوٹس چلاتے ہیں، انہیں اس مختصر بندش کے دوران مصروفیت میں نمایاں کمی کا سامنا کرنا پڑا۔ خوش قسمتی سے، اس پورے واقعے کے دوران اینڈرائیڈ صارفین اور ڈیسک ٹاپ کلائنٹس متاثر نہیں ہوئے۔
اب آپ کو کیا کرنا چاہیے
اگر آپ کو اپنے آئی فون پر چیٹس تک رسائی حاصل کرنے یا ایپلیکیشن کو اپ ڈیٹ کرنے میں دشواری کا سامنا کرنا پڑا ہے، تو آپ کو اپنے ڈیوائس کی درستگی کو یقینی بنانے کے لیے چند بنیادی احتیاطی تدابیر اختیار کرنی چاہیے۔
- اپنے ایپ اسٹور کی خریداریاں چیک کریں تاکہ تصدیق ہو سکے کہ آپ کے پاس ٹیلی گرام کا تازہ ترین ورژن انسٹال ہے۔
- اگر بحالی کے بعد میڈیا فائلیں درست طریقے سے لوڈ نہیں ہو رہی ہیں تو اپنا مقامی کیشے صاف کریں۔
- پلیٹ فارم کی بندش کے دوران بائی پاس فراہم کرنے کا دعویٰ کرنے والی غیر مصدقہ ویب سائٹس سے تھার্ড پارٹی انسٹالیشن فائلیں ڈاؤن لوڈ کرنے سے گریز کریں۔
- اپنے اکاؤنٹ کی ہسٹری کو ممکنہ خطرات سے محفوظ رکھنے کے لیے اپنی اکاؤنٹ کی سیٹنگز میں ٹو اسٹیپ ویریفیکیشن کو فعال کریں۔
آگے کیا دیکھنا ہے
سیکیورٹی تجزیہ کار اس بات کا باریک بینی سے جائزہ لے رہے ہیں کہ آیا ایپل اور گوگل مستقبل میں اس طرح کی بھتہ خوری کی کوششوں کو روکنے کے لیے اپنے اندرونی تصدیقی پروٹوکولز کو اپ ڈیٹ کریں گے۔ چونکہ ڈیجیٹل مارکیٹ پلیسز کو قانونی خامیوں کا فائدہ اٹھانے والے بدعنوان عناصر کی طرف سے بڑھتے ہوئے دباؤ کا سامنا ہے، اس لیے پلیٹ فارم آپریٹرز کو زیادہ مضبوط تصدیقی میکانزم تیار کرنے ہوں گے۔ بڑے ٹیک ادارے جب اپنی پالیسیوں کو ایڈجسٹ کریں تو آپ کو بھی فوری سیکیورٹی پچز حاصل کرنے کے لیے اپنے موبائل آپریٹنگ سسٹم کو اپ ڈیٹ رکھنا چاہیے۔
