تیمرگرہ میڈیکل کالج کا منصوبہ تکمیل کے آخری مراحل میں ہے اور صوبائی حکومت اس سہولت کو جلد فعال کرنے کے لیے کوشاں ہے۔ خیبر پختونخوا کے وزیر صحت خلیق الرحمان نے حال ہی میں اس بات کی تصدیق کی ہے کہ کالج کو جلد از جلد فنکشنل بنانا حکومت کی اولین ترجیحات میں شامل ہے۔

تیمرگرہ میڈیکل کالج کی تکمیل پر کام تیز

صوبائی وزیر کے مطابق، حکومت اس منصوبے کی راہ میں حائل رکاوٹوں کو دور کرنے کے لیے تمام ضروری اقدامات اٹھا رہی ہے۔ اگرچہ افتتاحی تاریخ کا حتمی اعلان تاحال نہیں کیا گیا، تاہم انتظامی سطح پر کام کو تیز کر دیا گیا ہے تاکہ تعلیمی سرگرمیوں کا جلد آغاز ممکن ہو سکے۔

لوئر دیر اور ملحقہ اضلاع کے رہائشیوں کے لیے یہ ایک اہم پیش رفت ہے۔ فی الحال، اس علاقے کے طلباء کو طبی تعلیم کے حصول کے لیے پشاور یا دیگر بڑے شہروں کا رخ کرنا پڑتا ہے۔ تیمرگرہ میڈیکل کالج کے فعال ہونے سے نہ صرف مقامی طلباء پر تعلیمی اخراجات کا بوجھ کم ہوگا بلکہ خطے میں ڈاکٹروں کی کمی کو پورا کرنے میں بھی مدد ملے گی۔

مقامی طلباء کے لیے فوائد

  • ضلع کی سطح پر معیاری طبی تعلیم تک رسائی۔
  • مقامی سطح پر طبی عملے کی بھرتی کے مواقع۔
  • کالج کے ہسپتال کے فعال ہونے سے مقامی آبادی کو بہتر طبی سہولیات کی فراہمی۔

آگے کیا ہوگا؟

طلباء اور والدین کو مشورہ دیا جاتا ہے کہ وہ خیبر میڈیکل یونیورسٹی (KMU) کی آفیشل ویب سائٹ پر نظر رکھیں تاکہ کالج کی ایکریڈیشن اور داخلوں کے شیڈول کے بارے میں بروقت معلومات حاصل کر سکیں۔ حکومتی سطح پر تعمیراتی کام مکمل ہونے کے بعد فیکلٹی کی بھرتی اور داخلوں کا باقاعدہ اعلان متوقع ہے۔

ہم تیمرگرہ میڈیکل کالج کی پیش رفت پر نظر رکھے ہوئے ہیں اور جیسے ہی تعلیمی سیشن کے آغاز کے بارے میں کوئی نئی معلومات آئیں گی، آپ کو آگاہ کر دیا جائے گا۔ فی الحال حکومت کی تمام تر توجہ عمارت کی تکمیل اور لیبارٹری و ہسپتال کے آلات کی فراہمی پر مرکوز ہے۔