برسات کے موسم کے پہلے ہی مہینے میں لاہور جنرل ہسپتال (LGH) میں سانپ کے ڈسنے کے شکار دس مریضوں کا بروقت علاج کر کے ان کی زندگیاں بچا لی گئی ہیں۔ ہسپتال کے ڈاکٹروں نے بروقت اینٹی اسنیک وینم (زہر مار ادویات) کی فراہمی اور فوری طبی مداخلت کے ذریعے ان مریضوں کو خطرے سے باہر نکالا۔

سانپ کے ڈسنے پر بروقت علاج کی اہمیت

پاکستان میں برسات کے دوران سانپوں کے بلوں میں پانی بھر جانے کی وجہ سے ان کا آبادی والے علاقوں میں نکل آنا ایک عام مسئلہ ہے۔ سانپ کے زہر کا انسانی خون میں شامل ہونا انتہائی تیزی سے کام کرتا ہے، جس کے لیے فوری طبی امداد ناگزیر ہے۔ لاہور جنرل ہسپتال میں ان دس افراد کی زندگی بچنے کی سب سے بڑی وجہ ان کا بروقت ہسپتال پہنچنا تھا۔

  • مریض کا فوری طبی معائنہ
  • اینٹی وینم کی فوری فراہمی
  • سانس اور دیگر علامات کی مسلسل نگرانی

برسات کے موسم میں احتیاطی تدابیر

برسات کے باقی دنوں میں بھی سانپوں کے کاٹنے کے واقعات کا خطرہ برقرار ہے۔ اگر آپ یا آپ کے کسی جاننے والے کو سانپ کاٹ لے، تو کسی بھی قسم کے ٹوٹکوں یا جھاڑ پھونک کے بجائے فوری طور پر قریبی بڑے سرکاری ہسپتال کا رخ کریں۔ تاخیر سے اعضاء کو مستقل نقصان پہنچ سکتا ہے یا موت واقع ہو سکتی ہے۔

سانپ کے کاٹنے پر فوری اقدامات

اگر سانپ کاٹ لے تو متاثرہ حصے کو دل کی سطح سے نیچے رکھیں اور مریض کو زیادہ سے زیادہ پرسکون رکھیں تاکہ زہر جسم میں تیزی سے نہ پھیلے۔ کاٹنے والی جگہ کے قریب گھڑی، انگوٹھی یا تنگ کپڑے فوراً اتار دیں، کیونکہ سوجن تیزی سے بڑھتی ہے۔ زخم کو کاٹنے یا زہر چوسنے کی کوشش نہ کریں، یہ طریقے انتہائی خطرناک ثابت ہو سکتے ہیں۔

مستقبل میں کیا کرنا چاہیے؟

صوبائی محکمہ صحت نے برسات کے دوران ہسپتالوں میں اینٹی وینم کا وافر اسٹاک رکھنے کی ہدایت کی ہے۔ شہریوں کو چاہیے کہ شام اور رات کے اوقات میں گھاس والے علاقوں یا پانی کے قریب چلتے ہوئے احتیاط برتیں۔ اپنے قریب ترین ایمرجنسی سینٹر کے بارے میں معلوم رکھیں تاکہ بوقتِ ضرورت فوری طبی مدد حاصل کی جا سکے۔