آبنائے ہرمز پر کنٹرول کا معاملہ ایک بار پھر عالمی سطح پر تناؤ کا مرکز بن گیا ہے، جہاں ایران اور امریکہ کے حکام کی جانب سے اس اہم آبی گزرگاہ پر اپنی بالادستی کے دعوے کیے جا رہے ہیں۔ یہ کشیدگی اس وقت بڑھی جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے 'ٹروتھ سوشل' پلیٹ فارم پر دعویٰ کیا کہ اس اہم آبی گزرگاہ پر امریکہ کا "مکمل کنٹرول" ہے۔
اس بیان کے جواب میں ایران کی بسیج نیم فوجی فورس کے نئے سربراہ نے بدھ کے روز امریکی دعوے کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ آبنائے ہرمز پر مکمل اختیار ایرانی مسلح افواج کا ہے۔
پاکستان کے لیے اس کے کیا اثرات ہو سکتے ہیں؟
پاکستان کے لیے آبنائے ہرمز کے کنٹرول کا معاملہ صرف ایک سفارتی بحث نہیں بلکہ معاشی بقا کا مسئلہ ہے۔ پاکستان کی خام تیل کی درآمدات کا ایک بڑا حصہ اسی راستے سے گزرتا ہے۔ اگر اس خطے میں کشیدگی بڑھتی ہے یا جہاز رانی میں کوئی رکاوٹ آتی ہے، تو اس کا براہِ راست اثر عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں پر پڑتا ہے۔
پاکستان میں تیل کی قیمتوں میں اضافہ براہِ راست پٹرول پمپوں پر عام آدمی کی جیب پر بوجھ ڈالتا ہے، بجلی کے ٹیرف میں اضافے کا باعث بنتا ہے اور اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں مہنگائی کی لہر پیدا کرتا ہے۔ وزارتِ توانائی اور اوگرا (OGRA) ان پیش رفتوں پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں کیونکہ خلیجی ممالک میں ہلچل پاکستان کے درآمدی بل اور زرمبادلہ کے ذخائر کے لیے خطرہ بن سکتی ہے۔
اسٹریٹجک صورتحال کا جائزہ
آبنائے ہرمز دنیا میں تیل کی نقل و حمل کا سب سے اہم مرکز ہے، جو خلیج فارس کو خلیج عمان اور بحیرہ عرب سے جوڑتا ہے۔ جہاں امریکہ خطے میں اپنی بحری موجودگی کو عالمی تجارت کی آزادی کے لیے ضروری قرار دیتا ہے، وہیں ایران اسے اپنی علاقائی حدود کا حصہ سمجھتا ہے اور اپنی بحری صلاحیتوں کے ذریعے یہاں کنٹرول کا دعویٰ کرتا ہے۔
- امریکی مؤقف: بین الاقوامی قانون اور تجارت کی آزادی پر زور۔
- ایرانی مؤقف: علاقائی خودمختاری اور آبی گزرگاہ پر آپریشنل کنٹرول کا دعویٰ۔
اب کیا ہوگا؟
مستقبل میں صورتحال پر نظر رکھنے کے لیے درج ذیل نکات اہم ہیں:
- عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں: اگر قیمتیں بڑھنا شروع ہوتی ہیں تو یہ اس بات کی علامت ہے کہ منڈیوں نے خطرے کو بھانپ لیا ہے۔
- اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے بیانات: درآمدی اخراجات کے روپے کی قدر پر اثرات پر نظر رکھیں۔
- فوجی نقل و حرکت: خلیج میں بحری مشقوں یا کشیدگی کی کسی بھی خبر کے بعد عالمی منڈیوں میں اتار چڑھاؤ کا امکان بڑھ جاتا ہے۔
اگرچہ یہ فی الحال ایک لفظی جنگ ہے، لیکن تاریخ بتاتی ہے کہ آبنائے ہرمز میں کشیدگی زیادہ دیر تک سفارتی بیانات تک محدود نہیں رہتی۔ فی الحال عالمی شپنگ انڈسٹری ہائی الرٹ پر ہے اور پاکستانی پالیسی ساز بھی کسی بھی ممکنہ سپلائی چین رکاوٹ کے لیے تیاری کر رہے ہیں۔
