یوکرین میں ایک سبزی فروش پر ڈرون حملے کی خوف ناک ویڈیو سامنے آگئی ہے، جس نے جنگ کے دوران شہریوں کو درپیش خطرات کو ایک بار پھر اجاگر کر دیا ہے۔ وائرل ہونے والی اس فوٹیج میں دیکھا جا سکتا ہے کہ کس طرح ایک عام شہری کو نشانہ بنایا گیا، جو اپنی روزی روٹی کمانے کی کوشش کر رہا تھا۔
روس کی جانب سے فی الحال اس ویڈیو یا یوکرین کی جانب سے لگائے جانے والے الزامات پر کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا ہے۔ عالمی میڈیا اور دفاعی تجزیہ کار اس واقعے کی مزید تفصیلات اور ویڈیو کی تصدیق کے عمل کا جائزہ لے رہے ہیں۔
ڈرون حملوں کی بدلتی ہوئی نوعیت
مشرقی یورپ کے تنازع میں چھوٹے ڈرونز اور جدید ٹیکنالوجی کا استعمال جنگ کا مستقل حصہ بن چکا ہے۔ ابتدائی طور پر نگرانی کے لیے استعمال ہونے والے یہ آلات اب زمینی سطح پر عام شہریوں اور روزمرہ کے معمولات کو متاثر کرنے کے لیے استعمال ہو رہے ہیں۔
انسانی حقوق کی تنظیمیں بارہا اس بات پر زور دے چکی ہیں کہ جنگی زون میں عام شہریوں کو تحفظ فراہم کیا جانا چاہیے، لیکن زمینی حقائق انتہائی خطرناک شکل اختیار کر چکے ہیں۔ سبزی فروشوں، کسانوں اور عام دکان داروں کے لیے روزانہ کا کام بھی جان لیوا خطرات سے بھرپور ہو چکا ہے۔
آئندہ صورتحال میں کیا دیکھنا ہوگا؟
بین الاقوامی سطح پر اس ویڈیو کے سامنے آنے کے بعد انسانی حقوق کے اداروں کی جانب سے دباؤ بڑھنے کا امکان ہے۔ آپ کو چاہیے کہ عالمی خبر رساں اداروں کی رپورٹس پر نظر رکھیں تاکہ معلوم ہو سکے کہ آیا فریقین کی جانب سے اس واقعے پر کوئی باضابطہ تحقیقاتی کمیشن بنایا جاتا ہے یا نہیں۔
اس طرح کے واقعات جنگ کے نتیجے میں عام انسانوں کو پہنچنے والے جانی و مالی نقصان کی ہولناک تصویر پیش کرتے ہیں، جس پر دنیا بھر کے امن پسند حلقوں میں تشویش پائی جاتی ہے۔
