ایوی ایشن کے تجربہ کار رہنما تیولڈ جبراماریم، جن کے بارے میں وسیع پیمانے پر رپورٹس تھیں کہ وہ پاکستان انٹرنیشنل ایگزیکٹو (پی آئی اے) کے چیف ایگزیکٹو آفیسر کے لیے سرکردہ امیدوار ہیں، انہیں اس عہدے کے بجائے ایئر انڈیا کا چیف ایگزیکٹو مقرر کر دیا گیا ہے۔
اس تقرری کے ساتھ ہی اس طویل بحث کا خاتمہ ہو گیا ہے جس میں سابق ایتھوپین ایئر لائنز کے سربراہ کے اگلے قدم پر قیاس آرائیاں کی جا رہی تھیں۔ جنوبی ایشیا کے ایوی ایشن حلقے قومی ایئر لائن کو سنبھالنے کے حوالے سے ان کی ممکنہ شمولیت پر گہری نظر رکھے ہوئے تھے، جو کہ اس وقت شدید مالی خسارے اور اصلاحاتی عمل کی راہ میں حائل رکاوٹوں سے دوچار ہے۔ ایئر انڈیا کا انتخاب کر کے، جبراماریم نے ٹاٹا گروپ کی سرپرستی میں چلنے والی اس بڑی ایئر لائن کے کارپوریٹ تنظیمی عمل کا حصہ بننے کو ترجیح دی ہے اور پی آئی اے کے نجکاری کے پیچیدہ دائرے سے کنارہ کشی اختیار کر لی ہے۔
پی آئی اے کی اصلاحات کے لیے ایک ضائع شدہ موقع
اسلام آباد اور کراچی میں ایوی ایشن کے ماہرین طویل عرصے سے تیولڈ جبراماریم کو پی آئی اے کے مسائل حل کرنے کے لیے بہترین امیدوار سمجھ رہے تھے۔ ایتھوپین ایئر لائنز کو افریقہ کی سب سے زیادہ منافع بخش کمپنی بنانے کا ان کا شاندار ماضی حکومتی نجکاری کے ایجنڈے کے لیے ایک پرکشش آپشن تھا۔ تاہم، اصلاحاتی مذاکرات میں طویل تاخیر اور انتظامی مسائل نے اس تجربہ کار ایگزیکٹو کا رخ بھارتی ایوی ایشن کمپنی کی طرف موڑ دیا۔
اس پیش رفت سے قومی ایئر لائن کو ایک بار پھر عالمی سطح کے تجربہ کار رہنما کی تلاش میں مشکلات کا سامنا ہے کیونکہ وہ ایک بار پھر نجکاری کے عمل سے گزر رہی ہے۔ نجکاری کمیشن اور ایوی ایشن ڈویژن کو ایئر لائن کو اربوں روپے کے قرضوں کے دلدل سے نکالنے کے لیے اعلیٰ بین الاقوامی انتظامی صلاحیتوں کو راغب کرنے میں مسلسل مشکلات کا سامنا رہا ہے۔
پاکستانی ایوی ایشن سیکٹر کے لیے اس کا مطلب
ایئر انڈیا کی جانب سے تیولڈ جبراماریم کا انتخاب اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ خطے میں مضبوط مالی وسائل رکھنے والے کارپوریٹ ادارے کس طرح عالمی صلاحیتوں کو اپنی طرف متوجہ کر رہے ہیں۔ جہاں بھارت کا نجی شعبہ جارحانہ توسیعی منصوبوں اور بھاری سرمائے کی حامل سرمایہ کاری پیش کر رہا ہے، وہیں پی آئی اے اب بھی سرکاری نگرانی، یونینوں کی مزاحمت اور مالیاتی ذمہ داریوں کی جکڑ میں ہے۔
اگر آپ قومی ایئر لائن کی جاری نجکاری پر نظر رکھے ہوئے ہیں، تو اس تقرری کے ہاتھ سے نکل جانے کا مطلب یہ ہے کہ اعلیٰ بین الاقوامی ایگزیکٹوز پاکستان کے سرکاری اداروں کی کمان سنبھالنے سے گریزاں ہیں جب تک انہیں مکمل آپریشنل خود مختاری اور حکومتی مالی معاونت کی یقین دہانی نہ کروائی جائے۔
آگے کیا دیکھنا ہوگا
نجکاری کمیشن کی جانب سے پی آئی اے کے لیے بولی کے نظرثانی شدہ شیڈول کے اعلانات پر نظر رکھیں۔ اب جب کہ سرفہرست غیر ملکی امیدوار دستیاب نہیں ہے، یہ دیکھنا باقی ہے کہ نجکاری کی اگلی کوشش سے قبل ایئر لائن کے روزمرہ کے امور کو چلانے کے لیے مقامی انتظامیہ یا کسی کم معروف علاقائی امیدوار کو ذمہ داری سونپی جاتی ہے۔ صنعت کے اسٹیک ہولڈرز اس بات کا بھی جائزہ لیں گے کہ ایئر انڈیا جنوبی ایشیا میں بین الاقوامی مسافروں کی ٹریفک کو اپنے حق میں استعمال کرنے کے لیے جبراماریم کے تجربے سے کس طرح فائدہ اٹھاتا ہے۔
