پاکستان میں تھر کول پاور کی صلاحیت جلد ہی 3,000 میگاواٹ کی اہم سطح تک پہنچ جائے گی، جس کا اعلان سندھ کے وزیر اعلیٰ سید مراد علی شاہ نے کیا ہے۔

یہ اضافہ تھر کے مقامی کوئلے کے ذخائر سے بجلی پیدا کرنے کے جاری منصوبوں کا حصہ ہے، جو فی الحال 2,640 میگاواٹ بجلی فراہم کر رہے ہیں۔ اس اقدام کا مقصد درآمدی ایندھن پر انحصار کم کرنا اور مقامی وسائل کے ذریعے سستی بجلی کی فراہمی کو یقینی بنانا ہے۔

تھر کول پاور کی صلاحیت میں اضافہ

بجلی کی پیداوار میں یہ اضافہ قومی گرڈ کو مستحکم کرنے میں مدد دے گا، جس سے صنعتی اور گھریلو صارفین کو بجلی کی بلاتعطل فراہمی میں بہتری کی توقع ہے۔ تھر کے کوئلے کو قومی توانائی کے مرکب میں شامل کرنے سے نہ صرف غیر ملکی زرمبادلہ کی بچت ہوگی بلکہ بجلی کی فی یونٹ قیمت کو کنٹرول کرنے میں بھی مدد ملے گی۔

  • موجودہ صلاحیت: 2,640 میگاواٹ
  • نیا ہدف: 3,000 میگاواٹ
  • اہم مقصد: درآمدی ایندھن پر انحصار کم کرنا

بجلی کے بلوں پر اثرات

اگرچہ حکومت کا دعویٰ ہے کہ مقامی کوئلہ درآمدی ایندھن کے مقابلے میں سستا ہے، تاہم صارفین کے لیے اصل ریلیف کا انحصار نیپرا (NEPRA) کی جانب سے فیول پرائس ایڈجسٹمنٹ کے فیصلوں پر ہوگا۔ جب مقامی کوئلے کا استعمال بڑھے گا تو عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ کا اثر صارفین پر کم ہونے کی توقع ہے۔

آگے کیا ہوگا؟

صارفین کو اب نیپرا کی ماہانہ فیول ایڈجسٹمنٹ نوٹیفکیشنز پر نظر رکھنی ہوگی تاکہ یہ دیکھا جا سکے کہ آیا اس اضافی پیداوار کا فائدہ عام آدمی تک منتقل ہوتا ہے یا نہیں۔ مزید معلومات کے لیے وزارت توانائی کی آفیشل ویب سائٹ power.gov.pk وزٹ کرتے رہیں۔