1985 کی مشہور فلم 'دی بریک فاسٹ کلب' کے سیکوئل کا منصوبہ (breakfast club sequel plan) برسوں بعد منظر عام پر آیا ہے، جس سے پتہ چلتا ہے کہ اس کلاسک ہائی اسکول کامیڈی کا دوسرا حصہ بننے کے قریب تھا۔ دہائیوں تک، اس فلم کے مداح یہ سوچتے رہے کہ وہ پانچ طلباء جنہوں نے ہفتے کے روز ڈیٹینشن میں گزارے، ان کی زندگیوں میں آگے کیا ہوا۔ اب یہ واضح ہو گیا ہے کہ ان کرداروں کی کہانی کو دوبارہ دیکھنے کے لیے سنجیدہ بات چیت ہوئی تھی۔
سیکوئل کے منصوبے کی حقیقت
یہ فلم پانچ ایسے نوجوانوں کے گرد گھومتی تھی جو مختلف سماجی حلقوں سے تعلق رکھتے تھے اور ایک ڈیٹینشن سینٹر میں اکٹھے ہو گئے۔ اگرچہ فلم ایک امید افزا نوٹ پر ختم ہوئی، لیکن breakfast club sequel plan کا مقصد یہ دیکھنا تھا کہ ہائی اسکول کے بعد ان کرداروں کی زندگیاں کیسی رہیں۔ فلم کی ثقافتی اہمیت کے باوجود، تخلیقی ٹیم نے آخر کار اسے آگے نہ بڑھانے کا فیصلہ کیا تاکہ کہانی کا اصل تاثر برقرار رہے۔
منصوبہ کیوں منسوخ ہوا؟
ہالی وڈ میں اکثر فرنچائزز کو بڑھانے کا دباؤ ہوتا ہے، لیکن اس پروجیکٹ کے پیچھے موجود تخلیقی قوتیں اصل فلم کی میراث کو خراب کرنے سے ڈرتی تھیں۔ اس فلم میں مولی رنگوالڈ، ایمیلیو ایستویز، اور جڈ نیلسن جیسے ستاروں نے اداکاری کی تھی، جن کی کیمسٹری فلم کی کامیابی کا راز تھی۔ برسوں بعد اس جادو کو دوبارہ تخلیق کرنے کی کوشش اصل کہانی کی ساکھ کے لیے خطرہ بن سکتی تھی۔
مداحوں کے لیے اہم نکات
- اصل فلم 1985 میں ریلیز ہوئی تھی اور اسے آج بھی کلاسک فلموں میں شمار کیا جاتا ہے۔
- تجویز کردہ سیکوئل میں ان پانچ کرداروں کی جوانی کی زندگی کو دکھایا جانا تھا۔
- اصل فلم کی میراث کو بچانے کے لیے اس پروجیکٹ کو منسوخ کر دیا گیا۔
پاکستان میں موجود وہ شائقین جنہوں نے یہ فلمیں وی ایچ ایس یا کیبل پر دیکھی ہیں، ان کے لیے یہ خبر ایک طویل عرصے سے جاری افواہوں کا خاتمہ ہے۔ اگرچہ ہمیں اب ان کا کوئی نیا حصہ دیکھنے کو نہیں ملے گا، لیکن اصل فلم عالمی تفریح کی تاریخ میں ہمیشہ زندہ رہے گی۔
