1518 کی رقص کی وبا (dancing plague 1518) تاریخ کے سب سے عجیب طبی اور سماجی معموں میں سے ایک ہے، جس نے محققین کو آج بھی حیران کر رکھا ہے کہ فرانس کے شہر سٹراسبرگ میں لوگ کس طرح بے قابو ہو کر رقص کرتے ہوئے اپنی جان گنوا بیٹھے تھے۔ اس واقعے کا آغاز جولائی 1518 میں ہوا جب 'فرا ٹروفیا' نامی ایک خاتون نے گلی میں بغیر کسی موسیقی کے رقص کرنا شروع کر دیا۔
1518 کی رقص کی وبا کی حقیقت
جو کام ایک خاتون کی عجیب حرکت سے شروع ہوا، وہ جلد ہی اجتماعی ہسٹیریا میں بدل گیا۔ ایک ہفتے کے اندر تقریباً 30 افراد اس کے ساتھ شامل ہو گئے اور مہینے کے اختتام تک متاثرین کی تعداد 400 کے قریب پہنچ گئی۔ یہ لوگ تفریح کے لیے نہیں بلکہ تھکن، پانی کی کمی اور دل کے دورے سے گرنے تک رقص کرتے رہے۔ اس دور کے ریکارڈ بتاتے ہیں کہ حکام نے طبی علاج کے بجائے یہ سمجھا کہ انہیں مزید رقص کرنے کی اجازت دی جائے تاکہ وہ ٹھیک ہو سکیں۔
- تاریخ: جولائی 1518
- مقام: سٹراسبرگ، الساس (موجودہ فرانس)
- متاثرین: تقریباً 400 افراد
- نتیجہ: تھکن اور دل کے امراض کی وجہ سے متعدد ہلاکتیں
یہ واقعہ کیوں پیش آیا؟
اگرچہ جدید سائنس کسی ایک ٹھوس وجہ کا تعین نہیں کر سکی، لیکن مورخین اسے شدید ذہنی دباؤ کے نتیجے میں پیدا ہونے والی 'اجتماعی نفسیاتی بیماری' قرار دیتے ہیں۔ اس خطے میں اس وقت قحط، بیماری اور سماجی بدامنی کا راج تھا، جس نے عوام کو نفسیاتی طور پر توڑ دیا تھا۔ کچھ ماہرین اسے 'ارگٹ' نامی پھپھوندی کا اثر بھی قرار دیتے ہیں جو رائی (گندم کی ایک قسم) پر لگتی ہے اور ہذیان (hallucinations) کا باعث بن سکتی ہے۔
تاریخ سے سبق
جدید دور کے انسان کے لیے یہ واقعہ اس بات کی یاد دہانی ہے کہ سماجی دباؤ اور انتہائی ماحولیاتی مشکلات کس طرح اجتماعی جسمانی رویوں میں ظاہر ہو سکتی ہیں۔ اگر آپ اس بارے میں مزید پڑھنا چاہتے ہیں تو سٹراسبرگ کے تاریخی آرکائیوز میں اس دور کے حکام کی ناکام کوششوں کی تفصیلات موجود ہیں۔ تاریخ کے طالب علموں کو اس قسم کے واقعات سے یہ سمجھنے میں مدد ملتی ہے کہ سماجی استحکام اور اجتماعی خوف کے درمیان لکیر کتنی باریک ہو سکتی ہے۔
