ترقی اور روزگار کے اس تضاد نے پورے جنوبی ایشیا میں ایک گہرے ساختیاتی نقص کو بے نقاب کر دیا ہے، جہاں مضبوط معاشی پھیلاؤ نوجوان نوکری کے متلاشیوں کے لیے روزگار کے بامعنی مواقع پیدا کرنے میں مکمل طور پر ناکام رہا ہے۔ بنگلہ دیش میں شیخ حسینہ کی حکومت کے خاتمے کا سبب بننے والا 2024 کا سیاسی بحران اور بھارت میں بے روزگاری کے خلاف نوجوانوں کی احتجاجی تحریکیں اس بات کا ثبوت ہیں کہ پورا خطہ ایک جیسے بحران سے دوچار ہے۔ یہی بارود اب پاکستان میں بھی سلگ رہا ہے، جہاں کاغذوں میں تو مجموعی ملکی پیداوار (جی ڈی پی) کے اعداد و شمار اچھے دکھائی دیتے ہیں لیکن دیہی اور شہری نوجوانوں کے لیے نوکریوں کا کال پڑا ہوا ہے۔
کراچی، لاہور، اسلام آباد اور پشاور کی یونیورسٹیوں سے فارغ التحصیل ہونے والے لاکھوں نوجوانوں کے لیے اب ڈگریاں محض کاغذی ٹکڑے بن کر رہ گئی ہیں۔ معاشی پالیسی ساز جی ڈی پی کی ترقی، صنعتی پیداوار اور بڑے پیمانے پر مینوفیکچرنگ کے اعداد و شمار پر جشن مناتے ہیں، مگر عام گھرانوں کو ان ترقیاتی دعوؤں کا کوئی اثر اپنے ماہانہ بینک اکاؤنٹس یا کچن کے بجٹ میں نظر نہیں آتا۔ روایتی طور پر سرمائے کے حامل شعبوں پر ریاست کا انحصار اس بات کو یقینی بناتا ہے کہ مالیاتی فوائد ہر سال لیبر مارکیٹ میں داخل ہونے والے نوجوان ورکرز کی اکثریت تک کبھی نہیں پہنچ پاتے۔
پاکستان میں نوجوانوں کی بے روزگاری کی اصل وجہ
سرکاری لیبر فورس کے سروے اکثر معاشی اعداد و شمار کے اندر غیر یقینی اور عارضی شعبوں میں کام کرنے والے افراد کو چھپا کر بے روزگاری کی اصل ہولناکی کو چھپا لیتے ہیں۔ جب اسٹیٹ بینک آف پاکستان یا وزارتِ خزانہ کی جانب سے مالیاتی اشاریوں کے استحکام کی رپورٹس جاری کی جاتی ہیں، تو ان میں شاذ و نادر ہی ان لاکھوں نوجوانوں کا ذکر ہوتا ہے جو کم تنخواہ والی اور غیر محفوظ نوکریوں میں پھنسے ہوئے ہیں۔ مہنگائی نے ابتدائی تنخواہوں کو نگل لیا ہے، جس کی وجہ سے سفید پوش نوجوانوں کو بڑے شہروں میں 35,000 سے 50,000 روپے ماہانہ تک تنخواہ ملتی ہے جو بم مشکل پبلک ٹرانسپورٹ کا خرچہ پورا کرتی ہے۔
صجدتی جدید کاری اور خودکار سپلائی زنجیروں نے دستی فیکٹری لیبر کی ضرورت کو کم کر کے اس تضاد کو مزید بگاڑ دیا ہے۔ آجروں کو ہائی ٹیک مہارتوں کی تلاش ہوتی ہے، لیکن پرائمری اسکولوں سے لے کر پیشہ ورانہ تربیتی بورڈز تک سرکاری تعلیمی ادارے جدید ڈیجیٹل یا تکنیکی مہارتیں سکھانے میں ناکام ہیں۔ نوجوان فرسودہ تعلیمی نصاب اور اس نجی مارکیٹ کے درمیان پھنس کر رہ گئے ہیں جو ایسی خصوصی مہارت کا تقاضا کرتی ہے جو انہیں کبھی سکھائی ہی نہیں گئی۔
خطے کے اسباق اور غفلت کا خمیازہ
خطے بھر میں چمکنے والی ان خطرے کی گھنٹیوں کو نظر انداز کرنا اب اسلام آباد کے بس کی بات نہیں۔ پڑوسی ملک بنگلہ دیش میں حکومت کا اچانک خاتمہ بنیادی طور پر اس نسل کے ہاتھوں ہوا جسے شاندار قومی ترقی کے باوجود سرکاری نوکریوں اور کارپوریٹ ترقی کے راستوں سے باہر کر دیا گیا تھا۔ اسی طرح، بھارتی شہروں میں ہونے والے مسلسل مظاہرے اس بات کی عکاسی کرتے ہیں کہ جب معاشی فوائد چند لوگوں تک محدود ہو جائیں اور نچلا طبقہ محروم رہے تو مایوس نوجوان کیسے ردعمل ظاہر کرتے ہیں۔
پاکستان ان ہی آبادیاتی خطرات سے دوچار ہے جنہوں نے خطے میں یہ ہلچل مچائی ہے۔ ملکی آبادی کا 60 فیصد سے زیادہ حصہ تیس سال سے کم عمر پر مشتمل ہے، جس سے ایک بے مثال افرادی قوت پیدا ہو رہی ہے۔ اگر اس قیمتی انسانی سرمائے کو کارآمد نہ بنایا گیا تو نوکریوں کے پورٹلز پر جمع ہونے والی مایوسی سڑکوں پر پھیل جائے گی۔
نوکری کے متلاشی افراد کے لیے عملی اقدامات
اگر آپ اس وقت مقامی جاب مارکیٹ میں جگہ بنانے کی کوشش کر رہے ہیں، تو معاشی اصلاحات یا سرکاری بھرتیوں کا انتظار کرنا ناکامی کا راستہ ہے۔ آپ کو ڈیجیٹل اور فری لانسنگ کی دنیا میں قدم رکھ کر اپنی معیشت کو خود محفوظ بنانا ہوگا:
- روایتی مقامی صنعتوں پر انحصار کرنے کے بجائے بین الاقوامی ڈیجیٹل ایجنسیوں اور ریموٹ فری لانسنگ پلیٹ فارمز کا رخ کریں۔
- روایتی ڈگریوں پر تکیہ کرنے کے بجائے کوڈنگ، ڈیجیٹل مارکیٹنگ، ڈیٹا تجزیہ یا گرافک ڈیزائننگ کے خصوصی تکنیکی کورسز کریں۔
- لنکڈ ان اور دیگر پروفیشنل نیٹ ورکس کے ذریعے اپنے روابط مضبوط کریں اور بڑے شہروں کے ٹیک انکیوبیٹرز سے جڑیں۔
- سرکاری ویب سائٹ نیشنل جاب پورٹل (portal.njp.gov.pk) کے ذریعے روزگار کے تصدیق شدہ مواقع پر نظر رکھیں۔
آئندہ کن چیزوں پر نظر رکھی جائے
پیشہ ورانہ تربیتی پروگراموں کے لیے وفاقی بجٹ کے اعلانات اور پاکستان بیورو آف شماریات کی جانب سے جاری کردہ سہ ماہی لیبر فورس کے اعداد و شمار پر گہری نظر رکھیں۔ اس بات کا مشاہدہ کریں کہ مرکزی بینک کے مانیٹری پالیسی بیانات میں چھوٹے پیمانے پر ایس ایم ایز کی مالی معاونت پر توجہ دی جاتی ہے یا بڑے کارپوریٹ اداروں کو نوازنے کا سلسلہ جاری رہتا ہے۔ آنے والے مالیاتی حلقوں میں نوجوانوں کی روزگار کی ضروریات پر ریاست کا ردعمل ہی طے کرے گا کہ خطے کا سیاسی عدم استحکام ہمارے ملک تک پہنچتا ہے یا نہیں۔
