ٹورانٹو میپل لیفس کے نووارد گاون میک کینا سے وابستہ توقعات پر کھیلوں کے حلقوں میں بحث جاری ہے کیونکہ ماہرین اس بات کا جائزہ لے رہے ہیں کہ یہ نوجوان فارورڈ اپنے پہلے سیزن میں کیا کارکردگی دکھا سکتا ہے۔ مائیکل ٹرائیکوس، ریان کینیڈی اور ڈریو شور نے اپنے شو میں اس بات پر روشنی ڈالی کہ اس نوعمر کھلاڑی کو نیشنل ہاکی لیگ کے سخت ماحول میں کس قسم کے چیلنجز کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
اگرچہ پاکستان میں روایتی طور پر کرکٹ اور فیلڈ ہاکی کو زیادہ پسند کیا جاتا ہے، تاہم کراچی، لاہور اور اسلام آباد کے اسپورٹس شائقین انٹرنیٹ پر عالمی سطح کی اسپورٹس لیگز کو باقاعدگی سے فالو کرتے ہیں۔ شمالی امریکہ کی لیگز میں نوجوان کھلاڑیوں کی تربیت اور ان پر ڈالی جانے والی دباؤ کی صورتحال سے ہمارے یہاں کے منتظمین بھی بہت کچھ سیکھ سکتے ہیں۔
ٹورانٹو میپل لیفس کے نووارد سے توقعات کا جائزہ
گاون میک کینا کے حوالے سے سب سے اہم بحث یہ ہے کہ وہ اتنی جلدی پروفیشنل سطح پر گول کرنے کی صلاحیت کا مظاہرہ کر پائیں گے۔ میپل لیفس کے مداح ٹیم سے ہمیشہ بہترین کارکردگی کی توقع رکھتے ہیں، جس کی وجہ سے کسی بھی نئے آنے والے کھلاڑی کے لیے دباؤ بہت زیادہ ہوتا ہے۔
ماہرین کے مطابق نوجوان فارورڈز کو اپنے پہلے طویل سیزن میں جسمانی طور پر خود کو ڈھالنے میں مشکلات پیش آتی ہیں۔ ابتدائی کامیابی کے لیے درج ذیل امور انتہائی اہم ہوں گے:
- این ایچ ایل کے تجربہ کار کھلاڑیوں کی رفتار اور دفاعی حکمت عملی کے مطابق ڈھلنا۔
- کوچنگ اسٹاف کا مشکل ترین لمحات میں کھلاڑی پر اعتماد کرنا۔
- طویل اور تھکا دینے والے دوروں کے دوران ذہنی توانایی برقرار رکھنا۔
- ٹیم کے دیگر بہترین کھلاڑیوں کے ساتھ بہتر تال میل پیدا کرنا۔
بین الاقوامی پراسپیکٹس اور مستقبل پر نظر
ٹورانٹو کے علاوہ اس گفتگو میں ہلنکا گریٹزکی کپ میں حصہ لینے والے ہونہار کھلاڑیوں پر بھی بات کی گئی۔ اسکاؤٹس اس سالانہ ٹورنامنٹ کو آئندہ نسل کے سپر اسٹارز کی تلاش کے لیے بنیادی حیثیت دیتے ہیں۔
اس کے علاوہ روسی دفاعی کھلاڑی الیگزینڈر نکشین کے مستقبل اور ان کے شمالی امریکہ کی لیگز میں شامل ہونے کے امکانات پر بھی غور کیا گیا۔ ان کھلاڑیوں کی نقل و حرکت پر نظر رکھنے سے اسپورٹس شائقین کو یہ اندازہ ہوتا ہے کہ آنے والے برسوں میں کون سی ٹیمیں غلبہ حاصل کریں گی۔
پاکستانی اسپورٹس شائقین کے لیے آئندہ کا لائحہ عمل
اگر آپ بین الاقوامی ہاکی کے شوقین ہیں تو اس سیزن پر نظر رکھیں کہ فرنچائزز اپنے نووارد کھلاڑیوں کی دیکھ بھال کیسے کرتی ہیں۔ اگرچہ پاکستان میں آئس ہاکی کے میدان موجود نہیں ہیں، تاہم پیشہ ورانہ اسکاؤٹنگ کے اصول ہمارے مقامی کھیلوں کے ڈھانچے بالخصوص فیلڈ ہاکی کو بہتر بنانے کے لیے مشعلِ راہ ثابت ہو سکتے ہیں۔
پری سیزن کے آغاز سے قبل ٹیم کی حتمی فہرستوں کا انتظار کریں تاکہ یہ معلوم ہو سکے کہ میک کینا کو افتتاحی میچ کے اسکواڈ میں مستقل جگہ ملتی ہے یا نہیں۔ یہ میچز ہی اس بات کا حتمی ثبوت ہوں گے کہ کوچز ان کی صلاحیتوں سے کس طرح فائدہ اٹھانا چاہتے ہیں۔
