پاکستان میں ادارتی زوال کی قیمت اس غلط حکمت عملی سے ادا کی جا رہی ہے جہاں ترقی کے نقشے (blueprints) ان لوگوں کے حوالے کر دیے جاتے ہیں جو انہیں چلانے کی بنیادی تکنیکی صلاحیت سے عاری ہوتے ہیں۔ یہ بالکل ویسا ہی ہے جیسے کسی بڑی فیکٹری میں اہم مشینری چلانے کی ذمہ داری ایسے بچوں کو سونپ دی جائے جنہیں اس کا فنی علم ہی نہ ہو۔

پاکستان میں ادارتی زوال کی وجوہات

جب ہم ادارتی زوال کی قیمت کی بات کرتے ہیں تو اصل میں ہم مہارت کی منتقلی کے نظام کی ناکامی کا ذکر کر رہے ہوتے ہیں۔ ایک فعال صنعتی نظام میں، ایک شاگرد ماہر سے کام سیکھتا ہے، لیکن ہمارے ہاں اکثر کلیدی عہدوں پر تقرریاں اہلیت کی بجائے مفادات کی بنیاد پر ہوتی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ جب ان نااہل ہاتھوں میں ملکی اداروں کی باگ ڈور آتی ہے، تو وہ ترقی کرنے کی بجائے بحرانوں کا شکار ہو جاتے ہیں۔

تکنیکی مہارت کیوں ضروری ہے؟

ریاست کو چلانا ایک بڑی فیکٹری چلانے جیسا ہے۔ اگر آپ کے پاس کام کرنے کا فنی علم نہیں ہے، تو آپ صرف مشینری کو تباہ کریں گے۔ ہمارے سرکاری اداروں میں اکثر دیکھنے میں آتا ہے کہ پالیسی سازوں کو زمینی حقائق اور تکنیکی پیچیدگیوں کا علم نہیں ہوتا، جس کا نتیجہ مالی نقصان اور انتظامی جمود کی صورت میں نکلتا ہے۔

اب کیا کرنے کی ضرورت ہے؟

اس صورتحال کو بدلنے کے لیے کچھ فوری اقدامات ناگزیر ہیں:

  • ریاستی اداروں کے بورڈز میں غیر سیاسی اور ماہر افراد کی شمولیت۔
  • انتظامی سربراہان کے لیے تکنیکی تربیت کو لازمی قرار دینا۔
  • ترقی اور تقرریوں کا معیار صرف کارکردگی کو بنانا۔

آئندہ کیا متوقع ہے؟

آنے والے وقت میں ہمیں سرکاری اداروں میں ہونے والی تقرریوں پر گہری نظر رکھنی ہوگی۔ اگر تقرریوں کا معیار یہی رہا تو قومی خزانے پر بوجھ مزید بڑھے گا۔ حقیقی تبدیلی تبھی آئے گی جب ہم 'فیکٹری کے فرش' یعنی نچلی سطح پر کام کرنے والے شعبوں کو پیشہ ورانہ بنائیں گے، نہ کہ صرف اوپر بیٹھے ہوئے چہروں کو بدلیں گے۔