پاکستان میں petrol price in pakistan کا موضوع اس وقت عوامی بحث کا مرکز بنا ہوا ہے کیونکہ عالمی منڈی میں قیمتوں کے اتار چڑھاؤ کے باوجود عوام کو ریلیف نہیں مل رہا۔ تازہ ترین مالیاتی اعداد و شمار سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ ایک لیٹر پیٹرول کی بنیادی درآمدی لاگت تقریباً 197 روپے 69 پیسے ہے، لیکن صارفین کو یہ پیٹرول اس سے کہیں زیادہ قیمت پر دستیاب ہے۔

پیٹرول کی قیمت کا تعین کیسے ہوتا ہے؟

جب آپ پیٹرول پمپ پر گاڑی میں ایندھن ڈلواتے ہیں، تو آپ صرف پیٹرول کی قیمت ادا نہیں کر رہے ہوتے بلکہ اس میں متعدد ٹیکسز اور اخراجات شامل ہوتے ہیں:

  • درآمدی لاگت: وہ بنیادی قیمت جو بین الاقوامی سپلائرز کو ادا کی جاتی ہے۔
  • پیٹرولیم لیوی: وفاقی حکومت کی جانب سے عائد کردہ ایک فکسڈ ٹیکس۔
  • جنرل سیلز ٹیکس (GST): جو ایندھن کی قیمت اور ڈیوٹیز پر لاگو ہوتا ہے۔
  • ڈیلر اور او ایم سی مارجن: آئل مارکیٹنگ کمپنیوں اور پمپ مالکان کا منافع۔

اگرچہ بنیادی درآمدی قیمت 197 روپے 69 پیسے فی لیٹر کے قریب ہے، لیکن حکومت کی جانب سے عائد کردہ لیوی اور دیگر ٹیکسز اس قیمت کو کافی بڑھا دیتے ہیں۔ اس کا بنیادی مقصد ملکی مالیاتی خسارے کو پورا کرنا ہے، جس کی وجہ سے عالمی منڈی میں قیمتیں کم ہونے کے باوجود مقامی سطح پر عوام کو مکمل فائدہ نہیں پہنچ پاتا۔

قیمتوں میں اضافے کی وجہ

حکومت اکثر بین الاقوامی قرض دہندگان کے اہداف کو پورا کرنے کے لیے پیٹرولیم لیوی میں اضافہ کر دیتی ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ جب عالمی منڈی میں تیل سستا ہوتا ہے، تو حکومت اسے عوام تک منتقل کرنے کے بجائے ٹیکس بڑھا کر ریونیو اکٹھا کرنے کو ترجیح دیتی ہے۔ یہ طریقہ کار عوام پر براہ راست بوجھ ڈالتا ہے کیونکہ پیٹرول کی قیمتوں کا اثر ہر چیز کی نقل و حمل اور اشیاء خوردونوش کی قیمتوں پر پڑتا ہے۔

آپ کو کیا کرنا چاہیے؟

صارفین کے لیے مشورہ ہے کہ وہ آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی (OGRA) کی جانب سے ہر پندرہ دن بعد ہونے والے اعلانات پر نظر رکھیں۔ یہ اعلانات ہی طے کرتے ہیں کہ اگلے دو ہفتوں میں آپ کی جیب پر کتنا بوجھ پڑے گا۔ چونکہ ملکی معاشی حالات ابھی بھی دباؤ کا شکار ہیں، اس لیے پیٹرولیم لیوی میں نمایاں کمی کے امکانات کم ہیں، لہذا عوام کو مہنگائی کے اس تسلسل کے لیے ذہنی طور پر تیار رہنا چاہیے۔