قیامِ پاکستان کے تقریباً آٹھ دہائیاں گزر جانے کے بعد بھی pakistan national question یعنی ملک کا بنیادی قومی سوال اور وفاقی نظام کی ساخت ملکی سیاست اور معیشت کے مرکز میں موجود ہے، جس کے اثرات ہر عام شہری کی روزمرہ زندگی پر براہِ راست پڑتے ہیں۔
پاکستان نے متعدد جیو پولیٹیکل بحران اور آئینی اتار چڑھاؤ دیکھے ہیں، لیکن صوبائی حقوق، قدرتی وسائل کی تقسیم اور تمام اکائیوں کی سیاسی نمائندگی سے جڑے بنیادی تضادات آج بھی وفاق اور صوبوں کے مابین کھچاؤ کا بڑا سبب ہیں۔ مضبوط مرکز بمقابلہ بااختیار صوبوں کا توازن عملی حکمرانی میں تاحال مکمل طور پر حل طلب ہے۔
پاکستان کے موجودہ بنیادی آئینی و انتظامی نکات
- وسائل کی تقسیم: دسویں این ایف سی ایوارڈ میں تعطل اور وفاقی قرضوں بمقابلہ صوبائی حصص پر تنازعات۔
- آئینی بحث: 2010 میں منظور ہونے والی تاریخی 18ویں آئینی ترمیم میں ترامیم یا اختیارات کی واپسی کے مباحث۔
- ادارہ جاتی توازن: پارلیمان، مشترکہ مفادات کونسل (سی سی آئی) اور وفاقی اداروں کے مابین اختیارات کی کشمکش۔
- علاقائی شکایات: بلوچستان، دیہی سندھ اور خیبر پختونخوا کے ضم شدہ اضلاع میں سیاسی و معاشی محرومیوں کا احساس۔
وسائل اور صوبائی خودمختاری: تنازع کی اصل جڑ
اس تنازع کی بنیاد یہ ہے کہ قومی وسائل کا کنٹرول کس کے پاس ہوگا اور پالیسی سازی میں کس کو کتنا اختیار حاصل ہے۔ 18ویں ترمیم کے تحت 17 وفاقی وزارتیں صوبوں کو منتقل کی گئیں اور این ایف سی ایوارڈ میں صوبوں کا حصہ 57.5 فیصد سے کم نہ کرنے کی آئینی ضمانت دی گئی۔
تاہم اسلام آباد میں وفاقی حکام کا مؤقف رہتا ہے کہ بھاری دفاعی اخراجات، بیرونی قرضوں کی ادائیگی اور عالمی مالیاتی اداروں کی شرائط نے وفاق کے مالیاتی ہاتھ باندھ رکھے ہیں۔ دوسری طرف سندھ اور بلوچستان جیسے صوبوں کا کہنا ہے کہ فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) ٹیکس اہداف حاصل کرنے میں ناکام رہتا ہے، جس سے صوبوں کو صحت، تعلیم اور انفراسٹرکچر کے فنڈز بروقت نہیں مل پاتے۔
قدرتی وسائل سے مالامال علاقوں جیسے بلوچستان اور جنوبی پنجاب کے عوام کا شکوہ ہے کہ گیس، معدنیات اور سی پیک جیسے منصوبوں سے حاصل ہونے والی آمدن مقامی سطح پر پینے کے صاف پانی، سڑکوں اور ہسپتالوں کی صورت میں دکھائی نہیں دیتی۔
اس آئینی کھچاؤ کا عام شہری کی زندگی پر اثر
کراچی، کوئٹہ، پشاور یا ملتان کے کسی عام شہری کے لیے یہ بحث محض کاغذی نہیں ہے، بلکہ اس کا اثر روزمرہ سہولیات پر پڑتا ہے:
- بلدیاتی سہولیات اور سرکاری ہسپتال: جب وفاق اور صوبے اخراجات پر الجھتے ہیں تو سرکاری ہسپتالوں میں ادویات کی قلت اور شہروں میں سیوریج کا نظام مفلوج ہو جاتا ہے۔
- تعلیم اور روزگار کے مواقع: ہائر ایجوکیشن کمیشن (ایچ ای سی) اور صوبائی تعلیمی محکموں کے درمیان ہم آہنگی نہ ہونے سے یکساں تعلیمی نظام اور نوجوانوں کی عملی تربیت متاثر ہوتی ہے۔
- مقامی حکومتوں کا فقدان: صوبائی اسمبلیاں عام طور پر بلدیاتی اداروں کو فنڈز اور اختیارات منتقل کرنے سے گریز کرتی ہیں، جس سے گلی محلوں کی صفائی اور بنیادی ترقیاتی کام تعطل کا شکار رہتے ہیں۔
پائیدار حل کے لیے ناگزیر اقدامات
ان دیرینہ تضادات کو ختم کرنے کے لیے وقتی سیاسی سمجھوتوں کے بجائے ٹھوس آئینی اقدامات کی ضرورت ہے:
- مشترکہ مفادات کونسل کو فعال کرنا: ارسا کے تحت پانی کی تقسیم اور توانائی کے نرخوں کے حل کے لیے سی سی آئی کے اجلاس آئینی تقاضے کے مطابق باقاعدگی سے بلائے جائیں۔
- دسواں این ایف سی ایوارڈ: صوبائی حصص کم کرنے کے بجائے وفاق اور صوبے ریٹیل، رئیل اسٹیٹ اور زراعت پر ٹیکس دائرہ کار بڑھانے کے لیے مشترکہ لائحہ عمل بنائیں۔
- آرٹیکل 140-A پر عملدرآمد: صوبائی حکومتیں آئین کے تحت مالی اور انتظامی اختیارات فوری طور پر منتخب بلدیاتی نمائندوں کو منتقل کریں۔
- علاقائی شکایات کا ازالہ: بلوچستان اور خیبر پختونخوا کے ناراض طبقات کے ساتھ براہِ راست اور بااختیار مکالمہ قائم کیا جائے۔
آگے کیا دیکھنا ہے؟
آنے والے پارلیمانی اجلاسوں میں اس بات پر نظر رکھیں کہ کیا این ایف سی فارمولے یا قدرتی وسائل کے صوبائی اختیارات میں تبدیلی کی کوئی قانون سازی سامنے آتی ہے۔ بین الاقوامی مالیاتی اداروں سے مذاکرات بھی وفاق اور صوبوں کے تعلقات کا امتحان لیں گے، کیونکہ وفاق کو بجٹ سرپلس چاہیے جبکہ صوبے اپنے مکمل آئینی فنڈز کا تقاضا کر رہے ہیں۔ قومی اسمبلی کی کارروائی اور قانونی پیش رفت na.gov.pk پر دیکھی جا سکتی ہے۔
